ملاقات بگرام فوجی اڈے پر یا کابل میں؟

تصاویر

،تصویر کا ذریعہUS EMBASSY / AFGHAN GOVERNMENT

،تصویر کا کیپشندونوں تصویر میں ریکس ٹلرسن کے لباس کے رنگ میں بھی فرق ہے

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کی دورہ افغانستان میں لی گئی تصاویر نے تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کی افغانستان میں کھینچی جانے والی ایک تصویر میں بظاہر تبدیلی کی گئی ہے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ امریکی وزیر خارجہ افغان صدر اشرف غنی سے بگرام کے امریکی فوجی اڈے میں نہیں بلکہ کابل میں ملے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے جاری کی گئی تصویر میں ٹلرسن کو افغانستان کے صدر اشرف غنی سے بگرام ایئر بیس پر ایک بغیر کھڑکی والے کمرے میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں دیوار پر امریکہ کی فوجی گھڑی اور سرخ رنگ کا ایک فائر الارم لگا ہوا ہے۔

لیکن افغانستان کی پریس ریلیز کے ساتھ جو تصویر جاری کی گئی ہے اس میں گھڑی یا الارم نہیں ہے اور اس کے ساتھ یہ لکھا گیا ہے کہ صدر غنی نے ریکس ٹلرسن کا 'استقبال کیا‘۔

امریکہ اور افغانستان نے پہلے کہا تھا کہ دونوں کی ملاقات کابل میں ہوئی لیکن بعد میں امریکی وزارت خارجہ نے تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات بگرام میں ہوئی۔ خیال رہے کہ بگرام افغانستان میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔

صدر اشرف غنی اور ریکس ٹلرسن

،تصویر کا ذریعہAFGHAN PRESIDENT'S OFFICE

،تصویر کا کیپشنیہ تصویر افغانستان کے ایوان صدر سے جاری کی گئی ہے جس میں دیوار سے گھڑی اور الارم غائب ہے

افغانستان میں امریکی سفارتخانے سے جاری کی جانے والی ایک پریس ریلیز میں جو تصویر جاری کی گئی اس میں اوپر کے حصے کو کاٹ دیا گيا تھا۔

تاہم سفارتخانے نے جو بعد میں تصویر ٹویٹ کی اس میں گھڑی اور الارم کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق 'اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ امریکی فوجی اڈہ ہے۔'

صدر اشرف غنی اور ریکس ٹلرسن

،تصویر کا ذریعہUS EMBASSY IN KABUL

،تصویر کا کیپشنامریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری تصویر میں اوپر کے حصے کو کاٹ دیا گيا ہے

دیوار پر آویزاں ڈیجیٹل گھڑی میں 'زولو' وقت (فوج میں جی ایم ٹی کے لیے را‏ئج اصطلاح) کے ساتھ مقامی اور مشرقی اوقات نظر آ رہے ہیں۔

لیکن افغان حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی تصویر میں نہ تو گھڑی ہے اور نہ ہی الارم۔

اس کے بارے میں ایک تجزیہ نگار نے ٹائمز کو بتایا کہ اس میں 'کوئی شک نہیں' کہ اس تصویر کو فوٹو شاپ کیا گیا ہے۔ امریکہ اور افغانستان میں سے کسی نے بھی اس تضاد کے بارے میں وضاحت نہیں دی ہے۔

صدر اشرف غنی اور ریکس ٹلرسن

،تصویر کا ذریعہUS STATE DEPARTMENT

،تصویر کا کیپشنلیکن امریکی وزارت خارجہ کی دوسری تصویر میں گھڑی اور الارم کو دیکھا جا سکتا ہے

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کی میٹنگ صرف دو گھنٹے جاری رہی اور ملک میں سکیورٹی کے باعث اسے ان کے افغانستان کے دورے کے خاتمے تک صیغۂ راز میں رکھا گیا۔

کئی ہفتے قبل امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کے دورے کے دوران کابل ایئرپورٹ پر راکٹ داغے گئے تھے۔