ریپ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بچی کا باپ ’دوسرا چچا تھا‘

A campaign poster on child abuse

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنماہرین کے مطابق جنسی زیادتی کے 50 فیصد معاملات میں ایسا کرنے والوں کو بچے جانتے ہیں جن سے اعتماد یا خیال کا تعلق ہوتا ہے

انڈیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ ریپ کا شکار دس سالہ بچی کے ہاں اگست میں پیدا ہونے والی بچی کا باپ اس کا ایک دوسرا چچا تھا۔

پولیس نے اس مشتبہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس سے پہلے بھی لڑکی کے ایک چچا کو اسی مقدمے کے تحت گرفتار کیا جا چکا ہے۔

پہلے گرفتار شدہ شخص کے ڈی این اے کی پیدا ہونے والی بچی کے ڈی این اے سے مماثلت نہ ہونے کے بعد اب پولیس دوسرے مشتبہ شخص کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔

چندی گڑھ کی سینیئر سپریٹنڈنٹ پولیس نیلمبری وجے نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس اب دوسرے چچا کے خلاف بھی مقدمہ قائم کر رہی ہے جو پہلے گرفتار ہونے والے شخص کا چھوٹا بھائی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’یہ سچ ہے کہ نومولود کا ڈی این اے دوسرے چچا کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔‘

اس مقدمے کے اگلی سماعت مقامی عدالت میں منگل کو ہوگی۔

تاہم اس دوران گرفتار ہونے والا پہلا چچا بھی زیرِ حراست رہے گا کیونکہ خیال ہے کہ اس نے بھی بچی کا استحصال کیا تھا۔

انڈیا میں اس دس سالہ بچی کا ریپ اور اس کے حاملہ ہوجانے کے واقعے نے ہفتوں تک نہ صرف انڈیا میں شہ سرخیوں بلکہ عالمی سطح پر بھی خبروں میں جگہ بنائے رکھی۔

اس کے حاملہ ہونے کا پتا جولائی میں اس وقت چلا جب اس نے پیٹ درد کی شکایت کی۔

چندی گڑھ کی عدالت نے اس کا حمل گرانے کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ یہ جان لیوا ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے بھی یہ درخواست مسترد کر دی تھی۔

انڈیا میں 20 ہفتے سے زائد کے حمل کو گرانے کی اجازت نہیں۔ ایسا صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ جب ڈاکٹرز یہ کہیں کہ حمل کی وجہ سے ماں کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

اگست میں اس دس سالہ بچی کہ ہاں ایک لڑکی کی پیدائش ہوئی جسے بچوں کے فلاحی ادارے کو دے دیا گیا تھا۔

بچی نے پولیس کو بتایا تھا کہ اس کے 40 سال سے زائد عمر کے ایک چچا نے گذشتہ سات ماہ کے دوران کئی بار اس کا ریپ کیا۔

اس بچی کو عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے اس شخص کی شکل دکھائی گئی اور اس نے اس کا واضح طور پر نام لیا۔ اس کے علاوہ اس کے اپنے ساتھ ہونے والے استحصال کی تفصیلات بھی بتائیں۔

بچی کے والد نے بی بی سی کو بتایا کے پہلے گرفتار ہونے والے چچا نے الزامات سے انکار نہیں کیا جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے اعترافِ جرم بھی کیا ہے۔

تاہم جب نومولود بچی کے ڈی این اے کی اس گرفتار چچا کے ڈی این اے سے مطابقت نہیں ہوئی تو پولیس نے مزید مشتبہ افراد کی تلاش شروع کی اور اس کے ایک دوسرے چچا کو ستمبر میں گرفتار کیا گیا۔

انڈیا کی عدالتوں میں حالیہ مہینوں کے دوران ایسی کئی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں ریپ کا شکار بچیوں کے اسقاطِ حمل کی اجازت طلب کی گئی۔

بہت سے معاملات میں حمل کا علم تاخیر سے اس لیے ہوا کیونکہ بچیوں کو خود اس کے بارے میں پتہ نہیں چلا۔

قانونی وجوہات کی بنا پر ان معاملات میں کسی بھی لڑکی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔