نیپال میں تین سالہ بچی کو ’زندہ دیوی‘ قرار دے دیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیپال کے دارالحکومت کاٹھمنڈو میں تین سال کی ایک بچی کو نئی 'زندہ دیوی' کی حیثیت دی گئی ہے۔
نیپال کی روایت کے مطابق پجاریوں نے جمعرات کو تین سالہ بچی کو دیوی قرار دیا اور اسے کاٹھمنڈو کے تاریخی دربار میں بھیج دیا۔
ایسی دیویوں کی اس وقت تک پوجا ہوتی ہے جب تک کہ وہ بالغ نہ ہو جائیں اور انھیں کماری کہا جاتا ہے۔
لال ساڑھی میں ملبوس تین سالہ بچی ترشنا شاکیہ کو ان کے گھر سے قدیمی دربار لے جایا گیا جہاں ان کی روایتی طور پر پوجا کی گئی۔
اب وہ 'زندہ دیوی' کی حیثیت سے قدیمی دربار میں مخصوص نگہداشت میں رکھی جائيں گی۔
اس موقعے پر جلوس کی شکل میں انھیں گھر سے دربار تک لے جایا گیا اور بچی کے اہل خانہ ان کے ساتھ تھے۔ روایت کے مطابق ترشنا اس وقت تک کماری رہیں گی جب تک وہ بالغ نہ ہو جائیں۔
ان کے والد بجیا رتن شاکیہ نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’میں خوش بھی ہوں اور اداس بھی ہوں۔ یہ اچھی بات ہے کہ میری بیٹی دیوی بن رہی ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ اب وہ ہم سے دور رہے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترشنا کی رخصتی کے وقت اس کا جڑواں بھائی کرشن رو رہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترشنا شاکیہ کو ہندوؤں کی دیوی تلیجو کا اوتار تسلیم کیا جائے گا۔ مخصوص تہواروں میں انھیں سال بھر میں مندر سے صرف 13 بار باہر جانے کی اجازت ہو گی۔
کسی لڑکی کو زندہ دیوی کا درجہ دیے جانے سے قبل مندر کے پجاری ان کے سامنے ایک جانور کی قربانی دیتے ہیں۔ اس روایت کے تحت ابھی تک 108 بھینسیں، بکریاں، مرغیاں، بطخیں اور انڈے کو ذبح کیا جا چکا ہے۔
ہندو اور بدھ مت کے ماننے والے دونوں مذاہب کے لوگ کماری کا برابر کا احترام کرتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ تین سابق شاہی سلطنت کاٹھمنڈو، پاٹن اور بھکت پور کی نمائندگی کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پہلے دیوی کو منتخب کرنے کی روایت شاہی خاندان سے منسلک تھی لیکن سنہ 2008 میں ہندو سلطنت کے اختتام اور ایک جمہوری ملک کے اعلان کے بعد بھی یہ رسم جاری ہے۔
دیوی کو مختلف قسم کے جسمانی امتحانات کے بعد منتخب کیا جاتا ہے۔ نیپال کے ہندو عقیدے کے مطابق دیوی بننے کے لیے بچی کی ران ہرن کی طرح اور سینہ شیرنی کی طرح ہونا چاہیے۔
اگر بچی ان جسمانی کسوٹیوں پر پوری اترتی ہے تو اسے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ بھینس کے سر کو تن سے جدا کیے جانے پر خوفزدہ ہو کر روئے گی نہیں۔
بچوں کے لیے کام کرنے والے ادارے اس روایت پر تنقید کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بچی سے اس کا بچپن چھیننے کے مترادف ہے۔ اس کے سب وہ بچی معاشرے سے کٹ کر رہ جاتی ہے اور اس کی تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نيپال کے سپریم کورٹ نے سنہ 2008 میں حکم دیا کہ کماری کو تعلیم دی جائے۔ اس کے بعد ان کے لیے مندر میں ہی تعلیم کا انتظام کیا گیا۔ بہت سی سابق زندہ دیویوں نے بتایا کہ مندر چھوڑنے کے بعد انھیں معاشرے میں گھلنے ملنے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
نئی کماری کے مندر میں داخل ہونے سے قبل 12 سالہ کماری مٹن شاکیہ عقبی دروازے سے مندر سے رخصت ہو گئيں۔ انھیں سنہ 2008 میں زندہ دیوی تسلیم کیا گیا تھا۔







