’داعش کا اس خطے میں مکمل خاتمہ کیا جائے گا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے سینئر فوجی حکام نے اپنا یہ عزم دوہرایا ہے کہ مزید تعاون اور معلومات کے زیادہ تبادلے کے ذریعے داعش کا اس خطے میں مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں داعش مخالف سہہ فریقی گروپ کے اس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن میجر جنرل ساحر شمشاد نے کی۔
اس کے علاوہ پاکستانی حکام نے کابل میں وزارت دفاع میں افغان عسکری قیادت سے بھی دوطرفہ فوجی تعاون پر بات کی۔
پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تینوں ممالک نے دہشت گردی کے مشترکہ خطرے کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ داعش کا مقابلہ معلومات کے زیادہ تبادلے، ایک دوسرے کی کارروائی میں مدد کرنے اور تعاون مزید بڑھانے سے بہتر انداز میں ہوسکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی حکام داعش کی اس خطے میں آمد کے ابتدائی دنوں میں اس کی پاکستان میں موجودگی سے مکمل انکار کرتے رہے تھے لیکن پھر خود ہی فوجی حکام نے کئی مرتبہ اپنے بیانات میں اس شدت پسند تنظیم کے مراکز ختم کرنے اور مشتبہ افراد گرفتار یا ہلاک کرنے کے اعلانات بھی کیے ہیں۔ اس طرح کے غالبا اس پہلے اجلاس کے منعقد ہونے سے لگتا ہے کہ تینوں ممالک اس کی موجودگی سے تشویش میں مبتلا ہیں۔
سندھ اور بلوچستان میں صوفی مزاروں پر خودکش حملوں کے علاوہ بلوچستان میں گذشتہ دنوں سینٹ کے ڈپٹی چیرمین اور جمعیت علماء اسلام کے رہنما عبدالغفور حیدری پر حملے کی ذمہ داری یہ تنظیم اٹھا چکی ہے۔
افغان حکام کے ساتھ دو طرفہ بات چیت میں پاک افغان سرحد کی دونوں جانب گولہ باری اور حملوں، انسداد دہشت گردی اور زیر حراست افراد کی حوالگی سے متعلق امور پر گفتگو ہوئی۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ سرحدی سکیورٹی بڑھانے کے لیے ایک مشترکہ ایکشن پلان تیار کیا جائے گا۔










