انڈیا کی نئی وزیر دفاع نرملا سیتارمن کا بی بی سی کنکشن

نئے وزرا

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنیہاں وزیراعظم نریندر مودی اور صدر جمہوریہ کے ساتھ حلف لینے والے نئے وزرا کو دیکھا جا سکتا ہے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی

انڈیا کی نئی وزیر دفاع نرملا سیتارمن کا ایک دلچسپ بی بی سی کنکشن بھی ہے۔

وہ ملک کی پہلی کل وقتی‘ خاتون وزیر دفاع ہیں حالانکہ اندرا گاندھی جب وزیر اعظم تھیں تو دو مرتبہ کچھ عرصے کے لیے دفاع کا قلمدان انھوں نے اپنے پاس رکھا تھا۔ پہلے 1975 میں، یہ وہ سال تھا جب ملک میں ایمرجنسی نافذ کی گئی اور پھر 1980 سے 1982 تک، یہ وہ وقت تھا جب پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کی پہلی شکست کے بعد وہ اقتدار میں واپس لوٹی تھیں اور خالصتان کی تحریک اپنے عروج کو پہنچ رہی تھی۔

نرملا سیتارمن کا سیاسی سفر بہت حیرت انگیز رہا ہے۔ وہ صرف نو سال پہلے بی جے پی میں شامل ہوئی تھیں، تین سال پہلے جب نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی نے پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کی تو وہ پارٹی کے کئی ترجمانوں میں سے ایک تھیں۔ انہیں وفاقی حکومت میں نائب وزیر کا عہدہ دیا گیا اور وہ خزانہ اور کامرس کی وزارتوں کی ذمہ داری سنبھال چکی ہیں۔

انھوں نے دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے اکنامکس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد لندن گئیں جہاں انھوں نے ایک ’فری لانسر‘ کی حیثیت سے بی بی سی کی تمل سروس میں کچھ عرصے کام کیا۔ ان کا تعلق تمل ناڈو سے ہے اور تمل ان کی مادری زبان ہے۔

وہ ریڈیو کا دور تھا اور اسوقت چالیس سے زیادہ زبانوں میں بی بی سی کے پروگرام لندن کی تاریخی عمارت ’بش ہاؤس‘ سے نشر ہوا کرتے تھے۔ لندن آکر پڑھنے والے بہت سے ایسے طالب علم، جن کی صحافت میں دلچسپی ہوتی اور جنہیں کسی ایسی زبان پر عبور حاصل ہوتا جس میں بی بی سی کے پروگرام نشر کیے جاتے ہوں، فری لانسر کے طور پر بش ہاؤس میں کام حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

سیتارمن

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسیتا رمن اس سے قبل بی جے پی کی ترجمان بھی تھیں یہاں انھیں حلف لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے ان کا تعلق بھی دلچسپ ہے۔ گزشتہ دو تین برسوں میں کچھ حلقوں کی جانب سے جے این یو کو قوم مخالف سرگرمیوں کے اڈے کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اس تاثر اور الزام کو بھی مسترد کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے اور ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ یونیورسٹی آزاد فکر اور سیکولرزم کا گہوارہ ہے۔ اسی بحث کے دوران یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ کیمپس میں ایک ٹینک رکھا جائے!

ان کا خیال تھا کہ ٹینک دیکھ کر طلبہ میں حب الوطنی کی جذبہ پیدا ہوگا۔

ٹینک کی تجویز کو تو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا لیکن کیا فکر، اب جے این یو کو اپنی وزیر دفاع مل گئی ہے!