مندروں کے شہر کی درگاہیں

- مصنف, عالیہ نازکی
- عہدہ, بی بی سی اردو، جموں
انڈیا کے زیر انتظام جموں کشمیر کے شہر جموں کو اکثر مندروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن مندروں کے اس شہر کی ہر دوسری تیسری گلی میں آپ کو مسلمانوں کے کسی نہ کسی پیر فقیر کی درگاہ ضرور ملتی ہے۔
ہندو اکثریت والے اس شہر میں درگاہوں کی اس مقبولیت کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
آفاق کاظمی جموں کے پرانے شہر کے رہائشی اور سماجی کارکن ہیں۔ ان سے ہم شہر کے مقبول پیر، پیر مٹھا کے مزار پر ملے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہاں لوگوں کا عقیدہ ہے کہ درگاہوں پر، مزاروں پر جا کر ان کی منتیں، مرادیں پوری ہوتی ہیں۔ اس لیے بلا لحاظ مذہب، قوم اور فرقہ لوگ یہاں آ تے ہیں، اور اپنی مرادیں پاتے ہیں۔
ان کے بقول یہاں آپ جتنا نیا کام دیکھ رہے ہیں، یہ سب غیر مسلم افراد نے کرایا ہے، کسی مسلمان نے نہیں۔

1947 میں ہونے والی تقسیم سے پہلے جموں شہر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی آبادی تقریباً برابر تھی لیکن اب شہر میں دس فیصد کے قریب مسلمان رہ گئے ہیں۔ ایسے میں یہ درگاہیں ہندوؤں اور سکھوں کی عقیدت کی وجہ سے ہی آباد ہیں۔
ستواری میں بابا بُڈن شاہ کی درگاہ پر ہمیں سردار امرویر سنگھ جی ملے جو خود بھی ایک گورودوارے میں راگی ہیں۔
'بابا کے سامنے ہم کوئی بھی فریاد کرتے ہیں تو وہ پوری ہو جاتی ہے۔ میری بچی کے بازؤں میں مسئلہ رہتا تھا۔ میں کئی ڈاکٹروں کے پاس لے کر گیا۔ وہ دوا دیتے لیکن دوا بند کرتے ہی مسئلہ پھر لوٹ آتا۔ تو میں اپنی بچی کو یہاں لے آیا۔ اس کے بعد کسی دوا دارو کی ضرورت نہیں پڑی۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

پرانے شہر کے علاقے گومٹھ میں ٹھیک ایک مندر کے سامنے ست گزے پیر کے مزار پر ہمیں ششی کوہلی ملیں۔
ہم نے ان سے جب یہ پوچھا کہ وہ مزار پر کیوں آتی ہیں تو انہوں نے کہا، 'یہاں آ کر دل کو سکون ملتا ہے۔ میرا بھائی بےروزگار تھا، میں یہاں آنے جانے لگی تو میرا بھائی کام پر لگ گیا، بس اسی کی مہربانی سے۔'
جہاں ایک طرف کچھ مبصرین پورے خطے میں دائیں بازو کی سخت گیر طاقتوں کی کامیابی اور مسلمانوں کے خلاف بظاہر بننے والی فضا پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں، وہیں ایک صدیوں پرانی، ملی جلی تہذیب کے تانے بانے آج بھی صاف نظر آتے ہیں۔

1947 کی خوں ریزی نے جموں شہر کو بدل کر رکھ دیا، اور یہاں کی ہندو اور مسلمان برادریوں کے درمیان بظاہر اندھیروں سے بھری ایک خلیج پیدا کر دی۔ مگر جموں کی درگاہوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان اندھیروں میں عقیدت کے دیے اب بھی روشن ہیں۔










