گرو گرمیت رام رحیم کو ریپ کے دو مقدمات میں دس دس برس قید کی سزا

گرو رام رحیم

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

انڈیا کی ریاست ہریانہ میں انڈیا میں ایک مذہبی رہنما گرمیت رام رحیم کو عدالت نے ریپ کے دو مقدمات میں دس دس سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔

فیصلے سے قبل فسادات کے خدشے کے پیشِ نظر پوری ریاست میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ گرو گرمیت رام کو گذشتہ جمعے کو اپنی دو خاتون پیرکاروں کے ریپ کے مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ مقدمے کا فیصلہ کرنے والے جج نے روہتک جیل میں ہی جا کر فیصلہ سنایا۔

گرمیت رام رحیم کو مجرم قرار دیے جانے پر پنچکولا ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد فیصلے سنائے جانے سے قبل ہریانہ پولیس نے روہتک جیل کو قلعے میں تبدیل کر دیا ہے۔

سی بی آئی کے خصوصی جج جگدیپ سنگھ نے پیر کو یہ فیصلہ سنایا۔ ہریانہ ڈی جی پی بی ایس سندھو نے بتایا کہ کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوج کو تیار رکھا گیا ہے۔

چندی گڑھ سے بی بی سی کے ساتھی رویندر سنگھ رابن نے بتایا کہ پنجاب کے وزیر اعلی امریندر سنگھ نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

امریندر سنگھ نے یہ بھی کہا کہ پنجاب حکومت نے کسی بھی طرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے اپنی طرف سے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔

روہتک

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنروہتک میں نیم فوجی دستوں کی 23 کمپنیوں کے ساتھ ساتھ خواتین پولیس اہلکار بھی تعینات ہیں

سرسا میں موجود بی بی سی کے نمائندے فیصل محمد علی نے بتایا کہ شہر میں کرفیو لگا ہے اور بغیر پاس کے کہںی جانا مشکل ہے۔ شہر بند ہے، انٹرنیٹ پر بھی پابندی ہے۔

ہریانہ کے محکمہ داخلہ کے مطابق 28 اگست سے لے کر 29 اگست کی صبح 11.30 بجے تک موبائل انٹرنیٹ، ایس ایم ایس اور وائرلیس انٹرنیٹ سروسز کو معطل رکھا گیا ہے۔ تاہم اس دوران لوگ موبائل پر ایک دوسرے سے بات کر پائیں گے۔

ہریانہ ڈی جی پی بی ایس سندھو نے کہا ہے کہ روہتک میں کسی بھی طرح کی غنڈہ گردی اور امن خراب کرنے کی کوششوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا: ’نیم فوجی دستوں کے ساتھ ساتھ پولیس فورسز کے جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے. اس کے علاوہ روہتک اور سرسا میں فوج کو تیار پر رکھا گیا ہے۔‘

ڈی جی پی سندھو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دیکھتے ہی گولی مارنے جیسے اقدامات کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

پنچکلا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنڈی جی پی سندھو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دیکھتے ہی گولی مارنے جیسے اقدامات کا حکم بھی دیا گیا ہے

اضافی پولیس ڈائریکٹر جنرل عقیل محمد نے بتایا کہ 'اگر سماج دشمن عناصر کسی طرح کا مسئلہ پیدا کرتے ہیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔'

روہتک میں نیم فوجی دستوں کی 23 کمپنیوں کے ساتھ ساتھ خواتین پولیس اہلکار بھی تعینات ہیں۔

گرمیت رام رحیم سنگھ کو ریپ کیس میں مجرم ٹھہرائے جانے کے بعد بھڑکنے والے تشدد میں مرنے والوں کی تعداد 38 ہو گئی ہے۔ اس میں سے پنچکولہ میں 32 اور سرسا میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔

ہریانہ سے لے کر قومی دارالحکومت دہلی کے کئی علاقوں تک کئی شہروں میں پیر کو سنائی جانے والی سزا کے پیشِ نظر سرکاری سکول بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔