عبدالقیوم خان پاکستان کیوں نہیں جانا چاہتے؟

عبدالقیوم خان
،تصویر کا کیپشنعبدالقیوم خان بنگلہ دیش میں اردو بولنے والے مسلمان ہیں
    • مصنف, فرحانہ پروین
    • عہدہ, بی بی سی، ڈھاکہ

70 سال قبل تقسیم ہند کی صورت میں مشرقی پاکستان بھی وجود میں آیا اور بعد میں پاکستان کا یہ حصہ بنگلہ دیش بن گیا۔

اس تقسیم کے دوران انڈیا کے بہت سے اردو بولنے والے مسلمان ہجرت کرکے مشرقی پاکستان کو چلے گئے تھے۔

ان میں سے اکثر شمال مشرقی ریاست بہار سے تعلق رکھتے تھے اور وہاں کے مقامی باشندے انھیں 'بہاری' کے نام سے پکارتے رہے ہیں۔

ان اردو بولنے والے بہار کے مسلمانوں نے پاکستان کے خواب دیکھے تھے اور اسی خواہش کے تحت ہجرت اختیار کی تھی۔ عبدالقيوم خان ان میں سے ایک ہیں اور اردو بولتے ہیں۔

تقسیم کے بعد انھوں نے جس امید کے ساتھ مشرقی پاکستان جانے کا فیصلہ کیا تھا ان کی وہ امید پوری نہ ہوسکی۔ عبدالقيوم خان بنگلہ دیش کے سید پور میں مقیم ہیں۔

تقسیم کے بعد سنہ 1947 میں عبدالقيوم خان اپنے سات بھائیوں کے ساتھ یہاں آئے۔ مشرقی پاکستان آنے کی ان کی اپنی کچھ وجوہات بھی تھیں۔

عبدالقیوم خان
،تصویر کا کیپشنبی بی سی کی نمائندہ فرحانہ پروین نے عبدالقیوم خان سے سید پور کو ہتفہانہ کیمپ میں ملاقات کی

عبدالقيوم خان بتاتے ہیں: 'اس فیصلے کے پس پشت بڑی وجہ اس وقت بہار میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات تھے۔ اس کے علاوہ زبان اور مذہب بھی دو اہم وجوہات تھیں۔'

وہ کہتے ہیں: 'انڈیا ہندوؤں کا ملک ہے، پاکستان ہمارا ملک تھا، لہذا ہم اپنے ملک میں آنا چاہتے تھے۔'

انھوں نے بتایا کہ ان کی اور ان کے بھائیوں کی خواہش پاکستان کا شہری بننا تھا۔

عبدالقيوم خان نے کہا: 'پاکستان کے سفر کے دوران، ہم انٹرنیشنل ریڈ کراس سوسائٹی کے کیمپ میں رہے۔ لیکن ہم آج تک پاکستان نہ جا سکے۔'

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت کو ان کا آنا پسند نہیں آیا اور وہ پھر کبھی بہار بھی لوٹ کر نہیں جا سکے۔

تقسیم ہند

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیہ ٹرین پاکستان جانے والے مسلمانوں سے کھچاکھچ بھری ہے

سنہ 2009 میں، بنگلہ دیشی حکومت نے اردو بولنے والے شہریوں کو علیحدہ شناختی کارڈ جاری کیا ہے۔

میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ اب بھی پاکستان جانا چاہتے ہیں؟

جواب میں انھوں نے کہا: 'ہمارا دل ٹوٹ گیا ہے، ہم نے پاکستان کا ہزاروں بار نام لیا لیکن پاکستان ہمارا ذکر تک نہیں کرتا ہے۔ ہم اب پاکستان نہیں جانا چاہتے ہیں۔ وہاں بم حملے ہوتے ہیں۔ روزانہ لوگ مرتے ہیں۔ یہاں ایسے حالات نہیں ہیں۔ یہاں ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے، رہنے کے لیے جگہ دستیاب ہے۔'