ہسپتال میں اموات: 'ایک کے اوپر ایک لاش پڑی تھی'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیر آتماج
- عہدہ, بی بی سی ہندی، گورکھپور، انڈیا
انڈیا کی شمال مشرقی ریاست اترپردیش کے شہر گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج ہسپتال کے 100 نمبر وارڈ کو انسیفالائٹس یا دماغ کی سوزش کے مریضوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ وارڈ سال بھر خصوصاً برسات کے موسم میں خبروں میں رہتا ہے۔
30 بچوں کی موت کے واقعہ کے بعد ہفتے کی صبح جب ہم ہسپتال پہنچے تو وارڈ میں داخل بچوں کے لواحقین فرش اور زینوں پر لیٹے نظر آئے۔
جن کے بچوں کی حالت نازک تھی اور جنھیں انتہائی نگہداشت کے کمرے یعنی آئی سی یو میں رکھا گیا تھا، ان کے لواحقین کے چہرے مرجھائے ہوئے تھے۔ شاید وہ رات بھر سوئے نہیں تھے۔
اس وارڈ میں باہر سے اندر ایمرجنسی تک، جن سے بھی میری بات ہوئی، سبھی نے دبی زبان میں یہاں ہونے والی سنگین لاپروائیوں کا ذکر کیا۔
مرنے والوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہSAMEERATMAJ MISHRA
کشی نگر سے تعلق رکھنے والی ثمینہ اپنے نواسے کو لے کر چار دنوں سے ہسپتال میں ہیں۔
وہ بتانے لگیں: بمبئی سے آئی ہے بیٹی۔ اس کا تین سال کا بیٹا اچانک بیمار ہو گیا۔ یہاں لائے تو پتہ چلا کہ دماغی بخار ہو گیا ہے۔ چار دن سے منہ میں اور ناک میں نلی لگی ہے۔ کیا علاج ہو رہا ہے ، کوئی بتانے والا نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اکیلی ثمینہ ہی نہیں، بلکہ اس طرح کی شکایت کرنے والے بہت سے اور لوگ ملے۔
جمعے کو یہ وارڈ اس وقت شہ سرخیوں میں آیا جب مبینہ انتظامی لاپرواہی کی وجہ سے 30 بچوں کی موت واقع ہوئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہسپتال میں آکسیجن گیس ختم ہو گئی اور ہسپتال انتظامیہ نے یہ بات جانتے ہوئے بھی اضافی آکسیجن کا کوئی انتظام نہیں کیا۔
موت کے اعداد و شمار 30 بتائے جا رہے ہیں جبکہ مقامی اخباروں میں یہ تعداد 50 تک بتائی گئی ہے۔
'ایک کے اوپر ایک لاش پڑی تھی'

،تصویر کا ذریعہSAMEERATMAJ MISHRA
ایک معمر خاتون مقامی بھوجپوری زبان میں بتانے لگیں کہ ویسے تو روز یہاں دس بیس بچے مرتے ہیں، لیکن جمعہ کو تو ایک کے اوپر ایک لاش پڑی تھی۔
خاتون کے ساتھ کھڑے لوگوں نے دبی آواز میں بتایا: 'پچاسوں بچے مر گئے کل، کوئی پوچھنے والا نہیں۔'
جبکہ ہسپتال انتظامیہ بچوں کی اموات کی وجہ آکسیجن کی کمی نہیں بتا رہی ہے۔ ریاست کے وزیر صحت سدھارتھ ناتھ سنگھ نے میڈیا میں آنے والی اس خبر کو براہ راست طور پر گمراہ کن بتایا ہے۔
جبکہ میڈیا کے پاس آکسیجن سپلائی کرنے والی کمپنی کے بی آر ڈی میڈیکل کالج کے پرنسپل کو لکھا گيا وہ خط بھی ہے جس میں بقایاجات ادا کرنے کی بات کہی گئی ہے۔
کمپنی نے بقایاجات کی ادائیگی نہ ہونے کے سبب آکسیجن کی فراہمی کے لیے معذوری ظاہر کی تھی۔
منی دیوی جمعہ کی صبح اپنے بچے کو لے کر ہسپتال پہنچی تھی۔ ان کے بچے کو دست آیا تھا۔
انھوں نے بتایا: 'بچے کی حالت نازک ہے۔ انھیں آکسیجن دی جا رہی ہے۔'
فی الحال منی دیوی کو اس بات کا اطمینان ضرور ہے کہ ان کے بچے کی حالت میں بہتری آ رہی ہے، لیکن جمعہ کے دلخراش واقعہ کو یاد کر کے وہ بھی رو پڑیں۔








