’پاکستان سے نفرت انڈیا کی اندرونی سیاست کے لیے اہم‘

نریندر مودی اور نواز شریف

،تصویر کا ذریعہRAVEENDRAN

،تصویر کا کیپشنکیا پاک انڈیا تعلقات میں تبدیلی کے آثار ہیں
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

انڈیا اور پاکستان کے تعلقات اس وقت بد ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان ایک طویل عرصے سے سرحدوں پر کشیدگی ہے۔ وقتاً فوقتاً شدت پسندوں کے حملے ہوتے رہتے ہیں اور فوجی کارووائیوں کی بھی خبریں آتی رہتی ہیں ۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہر طرح کا رابطہ منقطع ہے۔ تجزیہ کار بھارت بھوشن کہتے ہیں کہ’بات چیت کا نہ ہونا ایک منفی سگنل ہے ۔ سول سوسائٹی خاموش ہے یا ڈر گئی ہے اور میڈیا نے نفرتوں کا ہسٹیریا پیدا کر رکھا ہے۔‘

کشمیر کے حالات انتہائی خراب ہیں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کشمیر میں احتجاج اور مخالفت سے جس طرح سختی سے نمٹ رہی ہے اسے ملک میں عمومی قبولیت حاصل ہے ۔کارواں میگزین کے مدیر ہرتوش سنگھ بل کا خیال ہے کہ مودی کشمیر کے مسلے کا کوئی حل نہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔

'کشمیر ایک چھوٹی ریاست ہے، سمیاسی طور پر وہ مودی کے لیے اہمیت نہیں رکھتی ۔ انڈیا اس مسلے کو کچھ کھوئے بغیر جاری رکھ سکتا ہے ۔ مودی اندورنی سیاست میں کشمیر کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔‘

پاک بھارت سرحد

،تصویر کا ذریعہARIF ALI

،تصویر کا کیپشنامریکہ کی نئی انتظامیہ کے پاس پاکستان اور بھارت کے مسلے حل کرنے کا وقت نہیں ہے

انڈیا میں پاکستان سے نفرت عروج پر ہے ۔ کشمیر کے ایک دانشور پیر غلام رسول کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت ہندوتوا کے نظریے پر قائم ہے ۔ وہ ہندو ریس اور ہندو طاقت کی بات کرتی ۔ وہ یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس ملک میں اس کے لیے مسلمانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

’انھیں لگتا ہے کہ ہندو عوام کو متحد کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ پاکستان کے خلاف نفرت ہے۔ نریندر مودی جب سے اقتدار میں آئے ہیں تب سے یہ ایک ریاستی پالیسی بن گئی ہے۔‘

مودی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبی جے پی کے لیے الیکشن میں پاکستان ایک بڑا موضوع ہے

ان حالات میں کیا انڈیا اور پاکستان کے رشتوں میں کسی تبدیلی کے آثار ہیں۔پاکستان انڈیا پاک امور کی ماہر جیوتی ملہوترا کہتی ہیں ’مجھے نہیں لگتا کہ کچھ بدلنے والا ہے۔ امریکہ کی نئی انتظامیہ کے پاس پاکستان اور انڈیا کے مسلے حل کرنے کا وقت نہیں ہے۔ جو صورتحال ہے وہ ابھی برقرار رہے گی۔‘

ہرتوش سنگ بل کا خیال ہے کہ مودی کا واحد ایجنڈا یہ کہ وہ الیکشن کس طرح جیتیں۔ اس میں پاکستان کی پالیسی کا اہم کردار ہے۔ لیکن ان کے خیال میں یہ صورتحال ہمیشہ نہیں چل سکتی۔ ’مجھے نہیں لگتا کہ ہم لڑائی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جو بھی سرکار آتی ہے وہ ہمیشہ کے لیے نہیں آتی۔‘

تجزیہ کاروں کا خیال ہے مودی کی خارجہ پالیسی کا براہ راست تعلق ملک کی اندورنی سیاست سے ہے اور پاکستان کا سوال ملک کی داخلی اور انتخابی سیاست میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ نفرتوں اور سخت گیر قوم پرستی کے اس دور میں انڈیا اور پاکستان کے تلخ رشتوں میں فوری طور پر کسی بہتری کے آثار نظر نہیں آتے۔