انڈیا میں مسلمان عید پر کالی پٹیاں باندھ کر نماز ادا کریں گے

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/MD SADDAM
انڈيا میں حالیہ برسوں میں مسلمانوں پر ہونے والے حملوں میں اضافے سے لوگوں میں تشویش تھی لیکن دو روز پہلے چلتی ہوئی ٹرین میں جس طرح سے مسلم لڑکوں پر حملہ ہوا اور ایک مسلم نوجوان کو ہلاک کیا گيا اس سے مسلمانوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔
ہلاک ہونے والے نوجوان جنید کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے سے پہلے ان پر مذہبی بنیاد پر طنز کیا گيا اور پھر لوگوں نے مارنا شروع کیا۔
اس واقعے کے بعد انڈین مسلمان سکتے میں ہیں اور احتجاج کے لیے سوشل میڈیا پر عید کے دن سیاہ پٹی باندھ کر نماز پڑھنے کے لیے مہم چلائی جا رہی ہے۔
بی بی سی ہندی کے دلنواز پاشا نے ایسے ہی کچھ لوگوں سے بات چیت کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/MOHAMMAD ARIF
نوجوان شاعر عمران پرتاپ گڑھی نے فیس بک پر لوگوں سے سیاہ پٹیاں باندھ کر نماز پڑھنے کی اپیل کی ہے۔
عمران کہتے ہیں: 'ہمارے سامنے عید کا تہوار ہے جو خوشی کا دن ہے لیکن اس تہوار پر معاشرے نے ہمیں تحفے میں خون سے لت پت لاشیں دی ہیں۔ فرید آباد میں جنید اور سرینگر میں ایوب پنڈت کا ویڈیو دیکھنے کے بعد خاموش رہنا مشکل ہے۔ کہیں نہ کہیں اب بڑے پیمانے پر اس کی مخالفت کی ضرورت ہے۔ سیاہ پٹی باندھ کر ہم جمہوری طریقے سے اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔'
سماجی کارکن مہندی حسن قاسمی نے بی بی سی سے کہا: 'جمہوری ملک بھارت میں ہجوم پرستی کا ناسور بڑھ رہا ہے۔ کوئی نہ کوئی آئے دن اس کا شکار ہو رہا ہے۔ یہ وارداتیں نہ صرف معاشرے میں زہر گھول رہی ہیں بلکہ ملک کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلنے کا آغاز بھی ہو سکتی ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہfacebook
قاسمی کہتے ہیں: 'بھیڑ درندگی کے ساتھ لوگوں کو قتل کر رہی ہے۔ سیاہ پٹی باندھ کر نماز پڑھنا اس ہجومیت کے خلاف خاموش احتجاج ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قاسمی کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس سلسلے میں دارالعلوم دیوبند سے فتوی بھی لینا چاہا لیکن انہیں تحریری طور فتوی نہیں مل سکا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی مذہبی رہنماؤں سے فون پر بات ہوئی ہے اور ان کا کہنا تھا کہ عید پر سیاہ پٹی باندھ کر نماز پڑھنے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔
اتوار کو خلیجی ممالک میں عید منائی جا رہی ہے جہاں انڈین کمیونٹی کے لوگوں نے سیاہ پٹی باندھ کر عید منانے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں۔
دبئی میں رہنے والے محمد عارف نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا: 'باہر رہنے والے مسلمان انڈيا میں مذہبی بھیڑ کے ہاتھوں ہونے والے تشدد کی مخالفت میں سیاہ پٹی باندھ کر نکل رہے ہیں۔'
دمام میں سیاہ پٹی باندھ کر عید منانے والے محمد صدام نے بی بی سی کو بتایا: 'انڈیا میں منظم بھیڑ لوگوں کو مسلمان ہونے کی وجہ سے مار رہی ہے۔ ہم سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنے ملک کے حالات سے دنیا کو روبرو کروانا چاہتے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/NISAR AKHTAR
وسیم اکرم نے فیس بک پر لکھا: 'پہلے ہم شام اور فلسطین کے لوگوں کی حفاظت کے لیے دعا کرتے تھے، آپ ہندوستان کے لوگوں کی حفاظت کے لیے دعا کرنی پڑ رہی ہے۔'
فیس بک پر اپنے دوستوں سے سیاہ پٹی باندھنے کا اعلان کرنے والے نوید چودھری کہتے ہیں: 'بھیڑ کے ہاتھوں قتل سے صرف متاثرہ خاندان ہی تکلیف میں نہیں ہیں بلکہ پوری قوم غم زدہ ہے۔ ہم ان کے لیے انصاف کی آواز اٹھانے کے لیے سیاہ پٹی باندھ رہے ہیں۔'
جماعت اسلامی سے منسلک ندیم خان بھی فیس بک پر لوگوں سے سیاہ پٹی باندھ کر عید کی نماز پڑھنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ ندیم لکھتے ہیں: 'عید تو خوشی کا دن ہے، لیکن کیا نجیب، پہلو خان، منهاج، جنید جیسے مظلوموں کے گھر پر عید ہوگی؟'

،تصویر کا ذریعہFacebook
محمد زاہد نے فیس بک پر لکھا ہے: 'اگر آپ اس بات پر خاموش ہیں کہ بھیڑ صرف مسلمانوں کو مار رہی ہے تو آپ غلط فہمی کا شکار ہیں، یہی بھیڑ جمشید پور میں ایک عمردراز ہندو عورت سمیت اس کے دو پوتوں کو بھی قتل کر چکی ہے، ایسے ہی لوگوں نے ہاپوڑ میں ایک ہندو کو بھی قتل کیا تھا۔'
زاہد کہتے ہیں: 'ہمیں ہمارا پرانا انڈيا چاہیے، جہاں ہم عید دیوالي ساتھ مل کر مناتے تھے. اب وہ بھارت کہیں دور چلا گیا، اسی کو واپس حاصل کرنے کی مہم ہے #Eidwithblackband۔'
جون پور کے رہنے والے آصف کہتے ہیں: 'سیاہ پٹی باندھ کر احتجاج کر سکتے ہیں لیکن صرف سیاہ پٹی سے کیا ہوگا۔ مسلمانوں کو اگر اپنی بات رکھنی ہی ہے تو جنتر منتر پر دلتوں کی طرح احتجاجی مظاہرہ کرنا ہو گا۔'
مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آنے کے بعد سے مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ حملہ آوروں کو حکومت کا تحفظ حاصل ہے۔









