راجیو گاندھی کے قتل کے مجرم نے خودکشی کی اجازت مانگ لی

راجیو گاندھی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنراجیو گاندھی کو 21 مئی سنہ 1991 میں جنوبی ہند کے سری پیرمبدور میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا

انڈیا کے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے قتل کے جرم میں گذشتہ 26 برس سے قید رابرٹ پیاس نے حکام سے کہا ہے کہ انھیں مرنے کی اجازت دی جائے۔

رابرٹ سری لنکا کے شہری ہیں اور راجیو گاندھی کے قتل کے سلسلے میں تمل ٹائیگرز کے جن سات سابق ارکان کو قید کی سزا ہوئی تھی وہ ان میں سے ایک ہیں۔

یہ ساتوں مجرم عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

رابرٹ پیاس نے تمل ناڈو کی ریاستی حکومت سے استدعا کی ہے کہ انھیں رحم کی بنیاد پر مرنے کی اجازت دی جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے اہل خانہ بھی اب ان سے ملاقات کے لیے نہیں آتے اور اب ان کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں رہا۔

راجیو گاندھی کے قاتل

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنراجیو گاندھی کے قاتل گذشتہ 26 برسوں سے جیل میں ہیں

تمل ناڈو کی ریاستی حکومت اس بات کی کوشش کرتی رہی ہیں کہ 25 برس سے بھی زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد ان قیدیوں کو جیل سے رہا کر دیا جائے لیکن سپریم کورٹ اس کے خلاف ہے۔

عدالت نے 2014 میں مرکزی حکومت کی ایک درخواست کی بنیاد پر کہا تھا کہ ان قیدیوں کو آزاد کرنا انصاف کے سبھی تقاضوں کے خلاف ہو گا۔

اس وقت مرکز میں منموہن سنگھ کی حکومت تھی اور حکومت نے ان قیدیوں کی رہائی کی مخالفت کی تھی۔

خیال رہے کہ راجیو گاندھی کو 21 مئی سنہ 1991 میں جنوبی ہند کے سری پیرمبدور میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس قتل کے الزام میں سنتھن، مروگن، پیراریولن، نلنی، رابرٹ پایس، جے كمار اور روی چندرن جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔