چین میں لگژری عمارتوں کے نیچے خفیہ رہائشی کمرے

،تصویر کا ذریعہAFP
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک مہنگے رہائشی کمپلیکس میں زیرزمین رہائشی کمرے منظرعام پر آئے ہیں۔
سنیچر کو سرکاری ریڈیو کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہر کے شمال مشرقی حصے میں واقع جولونگ گارڈنز کے زیرزمین کھڑکیوں کے بغیر کمرے ہیں اور باہر نکلے کا صرف ایک ہی راستہ ہے۔ یہ رہائشی کمپلیکس امیر رہائشیوں کے لیے مشہور ہے۔
ان زیر زمین کمروں کے کرایے دار ان دس لاکھ لوگوں میں شامل ہیں جو شوزو یا 'چوہا قبیلے' کے نام سے جانے جاتے ہیں اور بیجنگ میں 1970 اور 1980 کی دہائی میں تعمیر کیے جانے والے بم شیلٹرز اور بنکرز میں رہتے ہیں۔
چائنہ نیشنل ریڈیو کی چینی زبان میں نشر ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولونگ گارڈنز میں رہنے مالکان کو اس وقت شک گزرا جب انھوں نے کمپلیکس میں اجنبی چہروں کو دیکھنا شروع کیا۔
جس کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ کمپلیکس کے ایک عمارت کی بیسمنٹ میں خفیہ کمرے ہیں۔
زیرزمین جگہ کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں سونے کی جگہیں، کچنز اور 'سگریٹ نوشی کا کمرہ' بھی شامل تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یہاں رہنے والے کرایے داروں میں تارکین وطن مزدور تھے اور ان کا طرز زندگی جولونگ گارڈنز کے دیگر رہائشیوں سے یکسر مختلف تھا۔
یہ واضح نہیں ہے کہ زیرزمین گھر قانونی تھے یا نہیں لیکن حکام مبینہ طور پر تفتیش کر رہے ہیں۔ چائنہ نیشنل ریڈیو کا کہنا ہے کہ زیرزمین جگہ مقامی حکومت کی ملکیت ہے لیکن اس کو ممکنہ طور پر سب لیز کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کی جانب سے ایسی جگہوں کو رہائشی و دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی تھی لیکن حالیہ برسوں میں ایسی جگہوں کے خلاف کارروائی ہوئی ہے اور ان کو حفاظتی خدشات کی بنا کر پرمٹ دینے سے روکا گیا ہے۔
سنہ 2015 میں حکام نے ایسی ہی ایک کارروائی کرتے ہوئے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایک لاکھ 20 ہزار شوزو افراد کو بے دخل کیا تھا۔







