’کشمیری فوجی آپریشن کی راہ میں حائل ہیں ‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بھارت کے زیرانتظام کشمیرمیں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ جنگلوں میں چھپے مسلح شدت پسندوں کے خلاف جو وسیع آپریشن شروع کیا گیا ہے، اس میں عام لوگ سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
سرینگر میں تعینات فوج کی پندرہویں کور کے ایک اعلی افسر نے بی بی سی اردو کے ریاض مسرور کو بتایا: ’خفیہ نیٹ ورک مضبوط ہے، ہمیں پتہ بھی چلتا ہے کہ انتہاپسند کہاں پر ہیں، لیکن جونھی محاصرہ کیا جاتا ہے، مقامی لوگ انتہاپسندوں کو بچانے کے لیے مظاہرہ کرتے ہیں۔‘
ایسا ہی ایک واقعہ چھ جون کو شوپیاں میں ہوا جب فوج، پولیس اور دیگر فورسز نے ایک گاؤں کا محاصرہ کیا۔ محصور شدت پسندوں کے حق میں لوگوں کی بڑی تعداد جس میں خواتین بھی تھیں، نے محاصرہ کرنے والی فورسز پر پتھراؤ کیا۔
اس دوران فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس میں عادل فاروق نامی نوجوان ہلاک ہوگیا۔ اس کے فوراً بعد کئی علاقوں میں مظاہرے ہوئے۔ حکام نے متعدد حساس علاقوں کی ناکہ بندی کی اور انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا۔
عادل فاروق کی ہلاکت کے خلاف جمعے کے روز وادی میں ہڑتال کی گئی۔ حکومت نے سرینگر کے بیشر علاقوں میں سکیورٹی پابندیاں نافذ کر دی ہیں، جبکہ شوپیاں کی طرف عوامی مارچ کو ناکام بنانے کے لئے جنوبی کشمیر میں بھاری تعداد میں فورسز اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں اندرونی ریل سروس کو بھی معطل کیا گیا، جبکہ نویں، دسویں، گیارہوں اور بارہویں جماعتوں کے لیے سبھی تعلیمی اداروں میں چار روز سے تعلیمی سرگرمیوں کو بھی معطل کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ کئی برسوں سے شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشنوں کے وقت لوگ باہر نکل کر مظاہرہ کرتے ہیں اور تصادم کےد وران بھی جائے واردات پر جمع ہوکر شدت پسندوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے واقعات میں اب تک درجنوں افراد مارے گئے۔
پولیس نے لوگوں سے بارہا اپیل کی ہے کہ وہ تصادم کی جگہوں کے قریب نہ جائیں کیونکہ ’گولی کسی کا لحاظ نہیں کرتی‘ ، تاہم اس رجحان میں روز بروز تیزی آرہی ہے۔
یکم جون کو سرینگر میں تعینات فوج کی پندرہویں کور کے ہیڈکوارٹر پر بھارت کی برّی، بحری اور فضائی افواج کے تینوں سربراہوں اور ملک کے سات کور کمانڈروں کے علاوہ خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا تھا۔
اجلاس میں جون کے آخر میں شروع ہونے ہوالی ہندوؤں کی سالانہ امرناتھ یاترا سے قبل جنگلوں میں چھپے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عزم کیا گیا۔
اس حوالے سے ذاکر موسی، ریاض کاوسہ، زینت الاسلام اور ابو دجانہ سمیت بارہ عساکر کی فہرست بھی جاری کردی گئی اور فورسز کو ہدایت دی گئی کہ ہر قیمت پر انھیں غیرمسلح یا ہلاک کیا جائے۔











