کابل: جنازے میں ’تین خودکش حملے‘، سات ہلاک

کابل

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنجنازے میں دھماکوں کے بعد کا منظر

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک جنازے کے دوران تین خودکش دھماکوں میں سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں 118 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حکام نے عوام کو کسی بھی مظاہرے میں شرکت کرنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسند انھیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔

کابل کے مرکز میں سکیورٹی فورسز نے چیک پوسٹیں قائم کر رکھی ہیں اور گلیوں میں بھی پٹرولنگ کی جا رہی ہے۔

کابل میں جمعے کے روز مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے سالم ایزدیار کے جنازے میں سنیچر کی دوپہر کو تین خودکش دھماکے ہوئے ہیں۔

اس جنازے میں افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبد اللہ عبد اللہ بھی شریک تھے تاہم انھیں اس حملے میں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

سالم ایزدیار افغان حکومت میں ایک سینیٹر محمد عالم ایزدیار کے بیٹے تھے اور جمعے کے روز پولیس نے مظاہرین پر جب فائرنگ کر دی تو ہلاک ہونے والوں میں سالم ایزدیار بھی شامل تھے۔

یاد رہے کہ کابل میں ہونے والے مظاہرے افغانستان میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے کیے جا رہے تھے۔

عبد اللہ عبد اللہ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ان کے جنازے میں شریک ہونے اور باخیریت وہاں سے نکلنے کی تصدیق کی گئی ہے۔

عبد اللہ عبد اللہ

،تصویر کا ذریعہTwitter

نامہ نگار خدائے نور ناصر کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں اس حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

ٹی وی پر خطاب کے دوران افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے بتایا کہ تین خودکش حملہ اور جنازے میں شریک افراد میں ہی شامل تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے پتہ لگایا جائے گا کہ حملہ کیسے ہوا۔

کابل

،تصویر کا ذریعہReuters

مظاہرے بدھ کے روز کابل میں غیرملکی سفارتخانوں اور صدارتی محل کے قریب ہونے والے ایک دھماکے کے بعد کیے جا رہے تھے جس میں تقریباً 90 افراد ہلاک اور 350 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز ہونے والے دھماکوں کے بعد کابل میں بیشتر علاقوں میں کرفیو لگا ہوا ہے۔