ہلسا مچھلی کے ضرورت سے زیادہ شکار کے اس کی نسل پر منفی اثرات

میانمار کے ماہی گیر کئی دہائیوں سے ہلسا مچھلی کا شکار کر کے فروخت کرتے رہے ہیں لیکن ہلسا کا ضروت سے زیادہ شکار اور قوانین نہ ہونے کے سبب ہلسا مچھلی کی نسل پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ بی بی سی کی نامہ نگار کو کو آنگ نے ان مچھواروں سے بات کی۔
65 سالہ یو کوک ٹِم کا کہنا تھا 'ہم کئی سالوں سے ہلسا کا شکار کر رہے ہیں۔ میرے والدین بھی یہی کرتے تھے۔ لیکن اب یہ مچھلی نہ صرف کم ہوتی جا رہی ہے بلکہ اس کا سائز بھی چھوٹا ہو گیا ہے۔
ہمارے والدین کے زمانے میں ہلسا وافر مقدار میں ہوا کرتی تھی اور اسکا سائز بھی بڑا تھا'۔
یو کوک ٹِم میانمار کے ان ماہی گیروں میں سے ایک ہیں جنکی روزی روٹی ہلسا کے شکار پر منحصر ہے جو اب دریاوں سے معدوم ہوتی جا رہی ہے۔

ہلسا ان مچھلیوں میں سے ایک ہے جو خلیجِ بنگال کے ساتھ لگنے والے دریاؤں میں پائی جاتی ہے۔
بے آف بنگال لارج مرین ایکو سسٹم کے اعدوشمار کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ یعنی 60 فیصد ہلسا بنگلہ دیش جبکہ پندرہ سے بیس فیصد میانمار میں پکڑی جاتی ہے جبکہ دنیا بھر میں ہلسا کی انڈسٹری دو بلین ڈالر سے زیادہ کی مالیت کی ہے۔
ہلسا خلیج بنگال سے تیر کر دریاؤں تک پہنچتی ہے لیکن تجارتی ٹرالرز ایک ایسے بڑے جال کے ذریعے ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے ہیں جو پانی کی تہہ تک پہنچ کر ہر سائز کی مچلیوں کو پھنسا لیتا ہے۔
تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جال باریک ہوتا ہے جس کے سوراخ دو عشاریہ پانچ سینٹی میٹر کے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے چھوٹی چھوٹی مچھلیاں بھی اس میں پھنس جاتی ہیں حالانکہ جال کے سوراخوں کا سائز دس سینٹی میٹر ہونا چاہئیے تاکہ چھوٹی مچھلیاں اس میں نہ پھنسیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

جو مچھلیاں دریا تک پہنچتی ہیں انہیں چھوٹے مچھوارے انتہائی باریک جال ڈال کر پکڑ لیتے ہیں۔ اس طرح بچی ہوئی چھوٹی مچھلیاں بھی ختم ہو جاتی ہیں۔
ہلسا پچاس سینٹی میٹر تک بڑھ سکتی ہے جس کا وزن تین کلوگرام تک ہونا چاہئیے لیکن میانمار میں پکڑی جانے والی ہلسا کا وزن تین سو سے پانچ سو گرام تک ہی ہوتا ہے۔
میانمار میں ہلسا کے شکار کا وقت مئی سے جولائی کے درمیان ہوتا ہے لیکن اس سلسلے میں کسی طرح کا قانون یا ضابطہ نہیں ہے اور پورے سال شکار جاری رہتا ہے۔
چھوٹے مچھوارے میانمار کے غریب باشندے ہیں اور ان پر تھوڑے عرصے کے لیے بھی پابندی لگانا ممکن نہیں ہے کیونکہ یہی انکی روزی روٹی کا واحد ذریعہ ہے۔
سمندر میں بھی مچھلی کے شکار کا ایک سیزن ہوتا ہے لیکن میانمار کی حکومت سیزن کے بعد بھی تیس فیصد شکار کی اجازت دیتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماہی گیری کے حوالے سے قوانین اور ضوابط پر عمل درآمد کی اشد ضرورت ہے۔
ہلسا کے معدوم ہونے کا ایک اور سبب پانی میں آلودگی اور موسمی تبدیلیاں بھی ہے۔ سمندر اور دریاوں میں کوڑے خاص طور پر پلاسٹک بہانے کے سبب بھی مچھلیوں کو نقصان ہو رہا ہے۔
میانمار کے ماہی گیری کے محکمے کے سینیئر افسر کا کہنا ہے کہ ملک میں ہلسا ابھی بھی وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔ محکمے کے ڈائریکٹرز میں سے ایک ٹن وؤن مائنٹ کا کہنا ہے کہ اس بارے میں تشویش کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ابھی بھی بڑی مقدار میں ہلسا پکڑی جا رہی ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال سمندر میں پکڑی جانے والی ہلسا کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس مچلی کا وزن اور سائز آدھے سے بھی کم ہے۔
ماحولیات اور ترقی سے متعلق عالمی ادارہ میانمار کے غریب ماہی گیروں کی مدد کے لیے ایک پروگرام شروع کر رہا ہے جس کے تحت ماہی گیروں کو سیزن سے باہر ہلسا کا شکار نہ کرنے کے عوض چاول دیے جائیں گے۔
لیکن اس سلسلے میں ماہی گیری کے قوانین کے نفاذ اور نگرانی کی بھی ضرورت ہے تاکہ سیزن میں مچلیوں کا سٹاک بحال ہو سکے۔







