شمالی کوریا کے جوہری حملے سے متعلق عزائم پر چین کو تشویش

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچین کے وزاتِ خارجہ کے ترجمان لُو کانگ کا کہنا تھا کہ چین ایسے تمام الفاظ اور اقدامات کی مخالفت کرتا ہے جن سے کشیدگی میں اضافہ ہو

چین نے شمالی کوریا کی جوہری ترقی اور عزائم کے حوالے سے شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔

چین کی جانب سے یہ بات شمالی کوریا کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو کے تناظر میں کہی گئی ہے۔

شمالی کوریا کے نائب وزیر خارجہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پیانگ یانگ میزائلوں کے تجربے جاری رکھے گا اور اگر اسے لگا کہ امریکہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تو وہ جوہری حملے میں پہل کر دے گا۔

چین کے وزاتِ خارجہ کے ترجمان لُو کانگ کا کہنا تھا کہ چین ایسے تمام الفاظ اور اقدامات کی مخالفت کرتا ہے جن سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔

حالیہ دنوں میں امریکہ اور شمالی کوریا میں کشیدگی بڑھی ہے۔

امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے علاقے کے دورے کے دوران متنبہ کیا تھا کہ شمالی کوریا واشنگٹن کو نہ آزمائے اور کہا تھا کہ ’شمالی کوریا کے لیے امریکہ کا سٹرٹیجک برداشت کا دور ختم ہو چکا ہے۔‘

کوریا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشمالی کوریا نے اتوار کو ایک میزائل تجربے کے علاوہ طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے فوجی پریڈ بھی کی

بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیفن میکڈونل کا کہنا تھا بظاہر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ چین اپنے روایتی حلیف شمالی کوریا کے رویے سے کافی جھنجھلایا ہوا ہے۔

بی بی سی کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے چینی وزاتِ خارجہ کے ترجمان لُو کانگ کا کہنا تھا ’میں نے حالیہ رپورٹس دیکھی ہیں۔ چین کو شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام کی ترقی سے متعلق حالیہ رجحانات پر کافی تشویش ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’چین جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے، امن اور استحکام کے قیام کے اپنے عہد پر قائم ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ معاملات بات چیت اور مذاکرات سے حل کیے جائیں۔‘

لُو کانگ کا کہنا تھا کہ پیانگ یانگ کے اس تازہ بیان سے پہلے ہی خطے میں حالات کشیدہ تھے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا نے اتوار کو ایک میزائل تجربے کے علاوہ طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے فوجی پریڈ بھی کی تھی۔