'سی پیک سے کشمیر پر چین کا موقف متاثر نہیں ہوگا'

سی پیک

،تصویر کا ذریعہReuters

چین نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر کے دیرینہ تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔

جمعے کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک پریس بریفنگ میں چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے چین کا موقف اصولوں پر مبنی اور واضح ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے کہا: 'کشمیر پر چین کا موقف اصولی اور واضح ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان اس تاریخی مسئلے کو دونوں فریقوں کی جانب سے مناسب طور پر مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔'

انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تعمیر سے کشمیر کے مسئلے پر چین کے موقف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔'

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان دفاع، صنعت اور تجارت کے شعبوں میں معمول کا تعاون برقرار ہے۔

پاکستان کے چیف آرمی آف سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے چین کے دورے اور نائب وزیر اعظم ژانگ گاؤلی، سینٹرل ملٹری کمیشن کے نائب چیئرمین فین چانگ لونگ اور جوائنٹ سٹاف کے سربراہ فانگ فینگوئی کے ساتھ ان کی ملاقاتیں ہوئي ہیں جن کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ سال دسمبر کے مہینے میں چین نے اقتصادی راہداری منصوبے میں پاکستان کی جانب سے انڈیا کو شمولیت کی پیشکش پر انڈیا کے رد عمل سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

سی پیک

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنحالیہ دنوں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر عمل درآمد میں تیزی آئی ہے

تاہم اس نے کہا تھا کہ وہ یہ چاہتا ہے کہ تیسرے فریق کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں متعارف کرنے کے امکانات پر فیصلہ پاکستان سے مشاورت اور ہم آہنگی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

یاد رہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری 46 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے جس پر کام تیزی سے جاری ہے۔

اور چینی حالیہ دنوں میں سی پیک سے متعلق 'منفی پروپیگنڈے' کو زائل کرنے کی کوشش میں مصروف نظر آئے ہیں۔

پاکستان میں تعینات چینی سفارت کار عموماً 'خاموش' سفارتکاری' پر عمل پیرا رہے ہیں لیکن چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر عمل درآمد میں تیزی آنے کے ساتھ ساتھ یہی چینی سفارت کار سوشل میڈیا پر اس کے دفاع کے لیے کافی متحرک ہوئے ہیں۔

انڈین میڈیا این ڈی ٹی وی کا کہنا تھا کہ سی پیک میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی شمولیت پر انڈیا کواعتراض ہے اور یہ دونوں ملکوں کے درمیان اختلافی معاملات میں شامل ہے۔ جبکہ چین جوہری سپلائر گروپ، این ایس جی میں انڈیا کی شمولیت اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر پر پابندی کی راہ میں حائل ہے۔