آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مودی کو سب سے کڑے امتحان کا سامنا
انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں انتخابات کے موقعے پر نریندر مودی وزیرِ اعظم بننے کے بعد سے اب تک اپنے اقتدار کے سب سے بڑے امتحان کا سامنا ہے۔
مودی نے 2014 میں 20 کروڑ آبادی والی اس ریاست میں فتح حاصل کی تھی، تاہم بڑی مالیت کے کرنسی نوٹوں پر پابندی کے بعد اس ریاست میں انتخابات کو مودی کے خلاف ریفرینڈم کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔
اس اقدام کی وجہ سے نوٹوں کی قلت پیدا ہو گئی تھی جس سے افراد اور کاروبار دونوں متاثر ہوئے تھے۔
ہفتے کو ہونے والے انتخابات میں 63 فیصد ٹرن آؤٹ رہا۔ حکام کے مطابق ووٹنگ بڑی حد تک پرامن رہی۔
اترپردیش میں سات مرحلوں میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ ہفتے کو پہلا مرحلہ تھا جب کہ آخری ووٹنگ آٹھ مارچ کو ہو گا۔ نتائج 11 مارچ کو متوقع ہیں۔
نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو دو نوجوان رہنماؤں کو سامنا ہے، کانگریس کے راہل گاندھی اور ریاست کے وزیرِ اعلیٰ اکھیلیش یادو۔
یادو کی جماعت سماج وادی پارٹی ہے اور وہ وزیرِ اعظم کے کرنسی کے بارے میں فیصلے کے کڑے ناقد رہے ہیں۔ انھوں نے پیش گوئی کی ہے کہ ووٹر مودی کی اس پالیسی کو مسترد کر دیں گے۔
انھوں نے ہفتے کو ریاستی صدر مقام لکھنؤ میں کہا: 'نتائج مودی کو جھٹکا دینے کا سبب بنیں گے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مودی نے انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے، اور انھوں نے ووٹروں سے کہا ہے کہ وہ 'جمہوریت کے اس بڑے میلے' میں حصہ لے کر ریاست میں جاری بدعنوانی کا خاتمہ کریں۔
انھوں نے ہفتے کے دن تقریر کرتے ہوئے کہا: 'یو پی کو مجرموں نے گڑھ بنا لیا ہے۔ ہر طرف لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔'
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات مودی کی کرنسی پالیسی پر لوگوں کے ردِ عمل کے عکاس ہوں گے۔
مودی نے 500 اور ایک ہزار کے نوٹوں پر پابندی لگا دی تھی، جس کا مقصد کالے دھن پر قابو پانا تھا۔
تنقید کے باوجود مودی کا کہنا ہے کہ یہ قدم غریبوں کے مفاد میں اٹھایا گیا ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی کو اپنی حریف جماعتوں کانگریس اور سماج وادی پارٹی سے کانٹے کا مقابلہ درپیش ہے۔