آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسمبلی کا الیکشن یا مودی کا ریفرینڈم؟
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
انڈیا کی ریاست اتر پردیش میں ریاستی اسمبلی کا انتخاب شروع ہو گیا ہے۔ یہ ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے اور اس کی آبادی 20 کروڑ سے زیادہ ہے۔ اسی لیے یہاں ووٹنگ سات مرحلوں میں پوری کی جائے گی۔
رائے دہندگان کا دل جیتنے کے لیے سیاسی جماعتیں مفت سمارٹ فون، سائیکل، سکالر شپ اور ملازمیتیں دینے کا وعدہ کر رہی ہیں۔
ان انتخابات میں ایک طرف حکمراں جماعت سماجوادی پارٹی ہے جس نے کانگریس سے انتخابی اتحاد کیا ہے۔ اس سے قبل دونوں جماعتیں ہمیشہ ایک دوسرے کے مد مقابل ہوا کرتی تھیں۔
تیس برس قبل تک اتر پردیش کانگریس کا گڑھ ہوتا کرتا تھا۔ اتر پردیش میں اس کی مضبوطی مرکز میں اس کی حکومت کی ضامن ہوا کرتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ملک کی سب سے بڑی پارٹی اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ اسے ایک علاقائی جماعت سے سمجھوتہ کرنا پڑا ہے۔
یہ کانگریس کے وجود کی لڑائی ہے۔ اگر وہ اتحاد کے بغیر لڑتی تو ریاست میں اس کا خاتمہ یقینی تھا۔ سماجوادی پارٹی سے انتخابی اتحاد نے کانگریس کے لیے ریاست میں اقتدار میں آنے اور پارٹی کو دوبارہ زندہ کرنے کے راستے کھول دیے ہیں۔
دوسری جانب اکھلیش یادو بھی اپنے والد اور پارٹی کے بانی ملایم سنگھ یادو کی پرانی طرز کی سیاست سے آزاد ہو کر ایک جدید نہج کی سیاست کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ کانگریس سے اتحاد سے انھیں انتخابی فاندہ پہنچ سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اکھیلیش یادو اس وقت ملک کے سب سے نوجوان وزیر اعلیٰ ہیں۔ ان کے لب ولہجہ میں ایک قسم کا ٹھہراؤ ہے۔ وہ دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح حریف رہنماؤں پر کبھی ذاتی نوعیت کے سیاسی حملے نہیں کرتے۔ ان کا انداز مثبت ہے اور نظر بہت دور تک کی سیاست پر ہے۔ حال میں جس طرح انھوں نے اپنی پارٹی کے اندرونی انتشار کے دوران خود کو ایک فیصلہ کن رہنما کے طور پرثابت کیا اس سے قومی سطح پر ان کا سیاسی قد بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب انتخاب میں بی جے پی ہے۔ بی جے پی کی انتخابی مہم کی قیادت خود وزیر اعظم نریندرمودی کر رہے ہیں۔ ان کے لیے اتر پردیش کا انتخاب جیتنا انتہائی اہم ہے۔ سنہ 2014 کے پارلیمانی انتخاب میں مودی کی مقبولیت اتنی زیادہ تھی کہ پارٹی کو اتر پریش میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی۔
اتر پردیش میں بی جے پی کے لیے جیتنا اس لیے ضروری ہے تاکہ وہ یہ ثابت کر سکے کہ وزیر اعظم کی مقبولیت برقرار ہے۔ لیکن اس سے بھی کہیں زیادہ اس لیے ضروری ہے کہ یہاں جیتنے سے بی جے پی کو پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں اکثریت حاصل ہو جائے گی جو نئے قانون بنانے اور قوانین میں ترمیم کی منظوری کے لیے ضروری ہے۔
بی جے پی نے عام طور پر ترقی اور ایک بہتر حکومت دینے کے نعرے پر مہم چلائی ہے لیکن پچھلے کچھ دنوں سے بی جے پی کے رہنما ؤں نے تین طلاق، مذبح خانے بند کرنے اور بعض مسلم اکثریتی علاقوں سے ہندوؤں کے مبینہ انخلا جیسے متازع سوالوں پر بحث چھیڑنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے انتخاب میں ان کی گھبراہٹ اور دباؤ کا پتہ چلتا ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ابھی تک ریاست کے الکشن میں کئی کوششوں کے باجود مزہب کی بنیاد پر کوئی تفرقہ نہیں بیدا ہو سکا ہے۔
تیسرے محاذ پر ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ مایا وتی کی بہوجن سماج پارٹی ہے۔ ابتدا میں ان کی پارٹی کافی پر امید نظر آ رہی تھی لیکن رفتہ رفتہ اس کے اعتماد میں کمی آئی ہے۔ بہوجن سماج پارٹی نے 403 رکنی اسمبلی کے لیے اپنی پارٹی سے تقریبآ سو مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے۔
اتر پردیش کے علما کی ایک اہم لابی علما کونسل، دلی کی جامعہ مسجد کے امام اور لکھنؤ کے ایک سرکرہ شیعہ عالم نے مسلمانوں سے بہوجن سماج پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔
یہ علما ہر انتخاب میں اس طرح کی اپیلیں کرتے رہے ہیں لیکن مسلم ووٹرز دوسرے ووٹروں کی طرح اپنی سمجھ بوجھ اور اپنی سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر ہی ووٹ دیتے ہیں۔ علما کی ان اپیلوں کی اہمیت ملک کی سیاست میں اپنا جواز برقرار رکھنے سے زیادہ نہیں ہے۔
اتر پردیش کے انتخابات سات مرحلوں میں پورے کیے جائیں گے۔ ان کے نتائج کا بڑی بے چینی سے انتظار رہے گا۔ کیونکہ یہ ملک کے مستقبل کی سیاست کا رخ طے کریں گے۔