انڈیا انتخابات: پنجاب اور گوا میں ووٹنگ مکمل

انڈیا کی دو ریاستوں پنجاب اور گوا میں اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں سنیچر کے روز ہونے والی پولنگ ختم ہو گئی ہے۔

پنجاب میں ووٹنگ صبح آٹھ بجے جبکہ گوا میں صبح سات بجے شروع ہوئی۔

پنجاب اور گوا کی تمام نشستوں کے لیے ایک ہی مرحلے میں ووٹ ڈالے گئے۔ پنجاب میں بی بی سی کے نامہ نگار رویندر سنگھ روبن کے مطابق پولنگ کے دوران امن وامان کی صورتحال قابو میں رہی اور غیرمعمولی ٹرن آوٹ کے باوجود تشدد کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ ’پولنگ کا وقت شام پانچ بجے تک کا تھا اور پانچ بجے پولنگ سٹیشنز کے دروازے بند کر دیے گئے تاہم اندر موجود ووٹرز کو اپنا حق رائے دیہی استعمال کرنے کا موقعہ دیا گیا‘۔

شام چار بجے تک پنجاب میں ووٹر ٹرن آوٹ چھیاسٹھ فیصد رہا۔ اور امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ اس مرتبہ دوہزار بارہ کے ٹرن آوٹ کا ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔

گوا میں 40 جبکہ پنجاب میں 117 اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کے ذریعے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی تھی۔

پنجاب میں ہمیشہ مقابلہ دوپارٹیوں کے درمیان ہوتا رہا ہے ان میں بی چے پی کی اتحادی اکالی دل اور کانگرس شامل ہیں تاہم اس مرتبہ ووٹرز کے پاس ایک تیسری آپشن عام آدمی پارٹی کی صورت میں موجود تھی۔

بی بی سی کے روندر سنگھ روبن کا کہنا ہے کہ ’پنجاب میں بی جے پی کی اتحادی اکالی دل دس سال حکومت میں رہی ہے۔ لیکن بی جے پی کے مرکز میں برسراقتدار ہونے کے باوجود اس کا اتحاد اس مرتبہ پنجاب میں پہلے کی نسبت کمزور نظر آ رہا ہے۔ کانگرس دس سال سے اقتدار سے باہر تھی، اس کے رہنما کپٹین امریندر سنگھ شاید اپنے دھڑے کو کچھ مضبوط کرپائیں۔ لیکن عام آدمی پارٹی کے پاس پنجاب میں کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ وہ تیس سیٹیں لیں یا پھر سات۔ وہ کچھ حاصل ہی کریں گے اور ہوسکتا ہے کہ وہ زورآور طریقے سے پنجاب میں اقتدر میں آسکتے ہیں‘۔

گوا میں بھی مقابلہ سہ رخی ہے کیونکہ وہاں بھی عام آدمی پارٹی سخت مقابلہ دیتی نظر آ رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ان انتخابات کے نتائج یہ طے کریں گے کہ کہ آیا لوگوں نے نریندر مودی حکومت کے نوٹ بندی کے فیصلے کو قبول کیا ہے یا پھر مسترد۔

پنجاب سے ہمارے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ وہاں نہ تو روزگار اور نہ ہی بدعنوانی کوئی مسئلہ ہے بلکہ اس وقت وہاں سب سے بڑا مسئلہ منشیات ہے، کیونکہ ایک پوری نسل منشیات کی زد میں آ چکی ہے۔

حال ہی میں ہونے والے ایک سرکاری سروے کے مطابق ریاست میں 15 سے 35 سال کے نوجوانوں میں 8.60 لاکھ نوجوان کسی نہ کسی شکل میں منشیات کا استعمال کر رہے ہیں۔

ان میں سے 53 فیصد نوجوان ہیروئن کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پوست، گانجا اور مصنوعی منشیات آئی سی ای اور کرسٹل میتھ کا استعمال بھی وسیع پیمانے پر ہے۔

پنجاب میں دہلی میں برسراقتدار عام آدمی پارٹی کے آنے سے مقابلہ سہ رخی ہو گیا ہے۔ پنجاب میں تقریباً 60 فیصد دیہی ووٹرز ہیں تو نوجوان ووٹرز کی تعداد نصف ہے۔