آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ہمیں انتخابات کی نہیں، دیس کی فکر ہے: نریندر مودی
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے حزب اختلاف اور بطور خاص کانگریس کو نشانہ بنایا ہے۔
انھوں نے حزب اختلاف پر بھرپور وار کرتے ہوئے کہا کہ وہ 'آج ان کے میدان میں کھیلنے اترے ہیں۔'
نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ وزیر اعظم مودی نے اپنے اس خطاب میں اپنی حکومت کا ڈھائی سال کا رپورٹ کارڈ پیش کیا ہے۔
انھوں نے کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 'ہم جیسے بہت سے لوگ ہیں جنھوں نے ملک کی آزادی کے لیے جان تو نہیں دی لیکن ہم انڈیا کے لیے جیتے ہیں اور انڈیا کی خدمت کر رہے ہیں۔'
نریندر مودی نے کہا: 'ہمیں 1975 سے 1977 کی ایمرجنسی یاد ہے کہ کس طرح حزب اختلاف کے رہنماؤں کو قید کیا گیا اور اخباروں کی آزادی پر قدغنیں لگائی گئیں۔'
وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ 'آخر زلزلہ آ ہی گیا، کوئی جب سکیم (گھپلے) میں بھی خدمت اور انکساری دیکھتا ہے تو دھرتی ماں بھی دکھی ہو جاتی ہے اور زلزلہ آتا ہے۔'
ان کا اشارہ گذشتہ رات شمالی ہند میں آنے والے زلزلے اور چند ماہ قبل کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کے ایک بیان کی جانب بھی تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ بولیں گے تو زلزلہ آ جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا میں آٹھ نومبر کو بڑے کرنسی نوٹوں پر پابندی لگانے کے فیصلے کو درست ٹھہراتے ہوئے انھوں نے کہا: 'پہلے دن سے حکومت کہہ رہی ہے کی بحث کے لیے تیار ہیں، آپ نے سوچا بات ہوئی تو مودی فائدہ حاصل کر لے گا۔'
ان کے خطاب کے دوران بہت سے افراد احتجاج بھی درج کرتے رہے اور کسی نے ان کے ایک بیان کو 'جھوٹ' قرار دیا۔
وزیر اعظم نے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: 'میں جو بھی کرتا ہوں تو کہتے ہیں کہ یہ تو میرا ہے۔۔۔ تو پھر آپ نے اتنی کامیابی حاصل کیوں نہیں کی؟
انھوں نے کہا کہ ہمارے ورک کلچر میں فرق ہے اور اسی لیے ہمیں زیادہ کامیابی ملی ہے۔
انھوں نے کہا: 'میں سڑک بنانے کی بات کرتا ہوں تو کہتے ہیں ہم نے بھی بنائی تو میں کہتا ہوں کہ سڑکیں تو ٹوڈر مل اور شیرشاہ کے زمانے میں بھی بنتی تھیں۔'
انھوں نے کہا کہ 'ملک میں ایک ایسا طبقہ پنپا ہے جو غریبوں کا حق لوٹ رہا ہے اس لیے ملک بلندیوں پر نہیں پہنچ سکا۔'
انھوں نے کہا: 'ہمیں انتخابات کی فکر نہیں، ہمیں دیش کی فکر ہے۔'
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کا یہ خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اترپردیش جیسی اہم ریاست میں اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے صدر کے خطاب سے ایک چیز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں انتخابات پر بہت اخراجات آتے ہیں اور اسے کم کرنے کے لیے اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات کو ایک ساتھ کرائے جانے پر غور کیا جانا چاہیے۔
اس کے علاوہ انھوں نے مختلف شعبوں میں حکومت کی کامیابیوں کا ذکر بھی کیا اور اعدادوشمار بھی پیش کیے۔