اتر پردیش الیکشن: ’مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم کا خدشہ‘

سیاسی رہنما

،تصویر کا ذریعہAFP,GETTY

،تصویر کا کیپشنیہ انتخابات بھارتیہ جنتا پارٹی، ریاست کی حکمراں جماعت سماج وادی پارٹی (جو کانگریس کے ساتھ متحد ہوکر انتخاب لڑ رہی ہے) اور بہوجن سماج پارٹی کے لیے بہت اہم ہیں

آبادی کے لحاظ سے انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 15 مغربی اضلاع کی 73 نشستوں پر سنیچر کے روز ووٹ ڈالیں جائیں گے۔

جمعرات کی شام کو ان نشستوں پر انتخابی مہم ختم ہوئی اور کل صبح سات بجے سے پولنگ شروع ہوگی۔

یہ انتخابات بھارتیہ جنتا پارٹی، ریاست کی حکمراں جماعت سماج وادی پارٹی (جو کانگریس کے ساتھ متحد ہوکر انتخاب لڑ رہی ہے) اور بہوجن سماج پارٹی کے لیے بہت اہم ہیں۔

سینیئر صحافی شرد گپتا نے بی بی سی کے ساتھ بات چيت میں مغربی اتر پردیش کی موجودہ سیاسی صورت حال کا ایک جائزہ پیش کیا ہے۔

راہل گاندھی، اکھیلیش یادو

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس بار کانگریس پارٹی اور سماجوادی پارٹی متحد ہوکر پوی کے انتخابات لڑ رہے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک سیاسی تصویر بہت واضح نہیں ہے۔ کوئی خاص لہر نہیں ہے اور کوئی ایک موضوع نہیں بلکہ بہت سے ہیں۔ اور ہر سیاسی جماعت اپنے موضوع کو مختلف طریقے سے پیش کر رہی ہے۔

شرد گپتا کے مطابق اس خطے کے کئی علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی 30 سے ​​40 فیصد تک ہے۔ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے درمیان جو اتحاد ہوا ہے، اس سے مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم کا خدشہ ہے۔ ووٹوں کی یہ تقسیم ایس پی کانگریس اتحاد اور بی ایس کے درمیان ہو سکتی ہے اور یہ انتخابات کا فیصلہ کن پہلو ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق سنہ 2014 میں عوام کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر دیا گیا تھا اور مظفر نگر کے فسادات کے بعد انتخابات کا زاویہ بدل گیا تھا۔ اس کی وجہ سے تقریباً ساری ہندو برادریوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا لیکن اس بار وہ صورت حال نہیں ہے۔

جاٹ برادری جنھوں نے 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی بہت مدد کی تھی، اس بار وہ مقامی جماعت لوک دل کی طرف مڑ گئے ہیں۔

جاٹ تحریک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس بار علاقے کے سبھی جاٹ بی جے پی کے ساتھ نہیں ہیں

مسلمان سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی کے درمیان منقسم ہیں تو کہیں کہیں وہ لوک دل کی بھی حمایت کر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں بی جے پی کو فائدہ ملنا چاہیے تھا لیکن دلت ووٹ بی جے پی کے ساتھ نہیں ہے۔ پورا جاٹ ووٹ بھی ان کے ساتھ نہیں ہے۔ دوسری جانب کچھ پسماندہ ذاتیں بھی بی جے پی کے ساتھ نہیں ہیں۔ کرنسی نوٹوں پر پابندی کی وجہ سے کچھ حد تک تاجر طبقے بھی بی جے پی سے ناراض ہیں۔

2014 میں مغربی اتر پردیش کی وجہ سے ہی پوری ریاست میں ایک الگ ماحول بنا تھا۔ لیکن اس بار مغربی اترپردیش کی سیاسی صورت حال بہت واضح نہیں ہے۔

سماجوادی پارٹی کارکن

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسماجوادی پارٹی کو حکومت محالف رجحان کا سامنا ہے

شرٹ گپتا کے مطابق انھیں لگتا ہے کہ مسلمان رائے دہندگان کا رجحان سماج وادی پارٹی اور کانگریس کی طرف ہورہا ہے۔ لیکن ایس پی کے پاس کوئی دوسرا بنیادی ووٹ نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مغربی اتر پردیش میں جہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے، وہاں انتخابات سے قبل کے آخری 72 گھنٹے بہت اہم ہوتے ہیں۔ وہ آخر میں طے کرتے ہیں کہ بی جے پی کو شکست دینے کی پوزیشن میں کون سی پارٹی ہے اور پھر وہ اس کے حق میں ووٹ کرتے ہیں۔

فی الحال مقابلہ کانٹے کا نظر آتا ہے جہاں ہار جیت کا فیصلہ زیادہ تر سیٹوں پر ایک ہزار یا دو ہزار ووٹوں سے ہی ہوگا۔