پنجاب الیکشن: ’اروند کیجریوال اور کانگریس کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہے‘

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پٹیالہ
45 سالہ نچھتر سنگھ موہالی کے گاؤں باقرپور میں گرپریت سنگھ گوگی کا تین گھنٹے سے انتظار کر رہے ہیں۔
گوگی عام آدمی پارٹی کے پنجاب ریاست کے صدر ہیں اور باقرپور میں پارٹی کی انتخابی ریلی میں نچھتر سنگھ سمیت سینکڑوں لوگ ان کی آمد کے منتظر ہیں۔
نچھتر سنگھ کہتے ہیں کہ 70 برس سے اکالی اور کانگریس پنجاب پر حکومت کرتی آئي ہیں۔ 'ہم نے دونوں جماعتوں کو دیکھ لیا ہے۔ وہ صرف وعدے کرتی رہی ہیں کرتی کچھ نہیں۔ یہاں لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔'
گاؤں کے نوجوان بھی ’بدلاؤ‘ کی بات کرتے ہیں جس سے سے ان کا مطلب عام آدمی پارٹی ہے۔
یہ پارٹی ریاست کے اسمبلی انتخابات میں پہلی بار اتری ہے اور پوری تیاری کے ساتھ آئی ہے۔
پارٹی کےرہنما اروند کیجریوال جگہ جگہ انتخابی ریلیوں سے خطاب کر ہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’پنجاب کسی وقت ملک کی سب سے خوشحال ریاست تھی۔ پندرہ برس میں کانگریس، اکالی دل اور بی جے پی نے پنجاب کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ پنجاب کی تباہی کا سبب ان جماعتوں کی ’گندی سیاست‘ ہے۔
عام آدمی پارٹی کی نظر پنجاب کے راستے سے قومی سیاست میں داخلے پر مرکوز ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پارٹی کی ایک مرکزی رہنما الکا لامبا کہتی ہیں: 'اگر ہم پنجاب میں جیت گئے تو ہمیں قومی پارٹی کا درجہ حاصل ہوجائے گا۔ ہم گوا کا بھی الیکشن لڑ رہے ہیں۔ 2017 کا گجرات انتخاب بھی ہمارے نشانے پر ہے۔ پنجاب کی جیت کے بعد ہماری نظر سیدھے 2019 کے پارلیمانی انتخابات پر مرکوز ہوگی۔'

،تصویر کا ذریعہBBC Sport
کانگریس اور اکالی دل کیجریوال کے ابھرتے ہوئے خطرے کو محسوس کر رہی ہیں۔
اکالی دل کے صدر اور نائب وزیر اعلی سکھبیر سنگھ بادل ووٹروں کو متنبہ کرتے ہیں کہ 'کیجریوال ایک خطرناک آدمی ہے۔ اس نے دلی میں کچھ نہیں کیا ہے۔ اسے انتہا پسندوں اور دہشتگردوں سے حمایت مل رہی ہے۔'
کانگریس کے صدر کیپٹین امریندر سنگھ آپ پارٹی کی موجودگی کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'ریاست میں اصل مقابلہ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے درمیان ہے۔'

اکالی دل اور بی جے پی کا اتحاد دس برس سے اقتدار میں ہے۔ عوام میں حکومت کے خلاف ناراضگی پائی جاتی ہے۔ کانگر یس اسے اپنے لیے ایک بہترین موقع تصور کرہی ہے لیکن عام آدمی پارٹی نے انتخابات کا توازن بگاڑ دیا ہے۔
پورے ہندوستان میں تیزی سے سمٹتی ہوئی کانگریس کے لیے پنجاب کا انتخاب کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ سنٹر فار ڈیویلپمنٹ اور کمیونیکیشن کے معروف تجزیہ کار ڈاکر پرمود کمار کہتے ہیں کہ پنجاب کانگریس کے لیے واحد راستہ بچا ہے:
'اگر کانگریس یہ ونڈو مس کر گئی تو ملک کی سیاست میں واپس آنے کی اس کی کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا۔ اس لیے پنجاب میں کانگریس کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔'

کانگریس کی اس کوشش کو سب سے بڑا خطرہ کیجریوال کی جماعت سے ہے لیکن ڈاکٹر پرمود کہتے ہیں کہ پنجاب کے انتخابات خود عام آدمی پارٹی کے وجود کو تباہ کر سکتے ہیں: 'عام آدمی پارٹی اگراچھی کاردگی نہیں دے پائی تو اس کا خاتمہ شروع ہو جائے گا اور کیجریوال کا قومی سیاست کی طرف جانے کا کا راستہ پوری طرح بند ہو جائے گا۔'
پنجاب کے انتخابات میں کانگریس اور اکالی دل کے درمیان مقابلہ ہوتا رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ایک تیسری پارٹی ان دونوں جماعتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے۔
پنجاب کے انتخابات میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اگر عام آدمی پارٹی یہاں جیت گئی تو پنجاب ہی نہیں ملک کی قومی سیاست پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے لیکن اگر وہ ہار گئی تو ہندوستان میں یہ ایک نئی سیاست کے تجربے کا اختتام ہو گا۔







