’انڈین سیاسی جماعتوں کی 70 فیصد آمدن کے ذرائع نامعلوم‘

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا میں نیشنل الیکشن واچ اور ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کا کہنا ہے کہ گذشتہ 11 سالوں میں سیاسی جماعتوں کی تقریبا 70 فیصد آمدنی 'نامعلوم ذرائع' سے رہی ہے۔
منگل کو دہلی میں جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2004 سے لے کر مارچ سنہ 2015 تک تمام قومی اور علاقائی سیاسی جماعتوں کی کل آمدنی 11،367 کروڑ روپے تھی جس میں سے تقریبا 30 فیصد آمدنی کے ذرائع کا پتہ دیا گیا ہے۔
موجودہ ضابطے کے مطابق اگر کسی سیاسی جماعت کو کسی شخص یا ادارے سے 20 ہزار روپے سے کم کا چندہ ملتا ہے تو ایسی صورت میں اس شخص یا ادارے کے نام کے اندراج کی ضرورت نہیں۔
گذشتہ چند سالوں میں بہت سے ماہرین نے اس ضابطے میں فوری طور پر تبدیلی لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے جس سے انتخابی اخراجات اور سیاسی جماعتوں کے کام کاج میں مزید شفافیت آ سکے۔
سابق چیف الیکشن کمشنر شہاب الدین یعقوب قریشی نے اپنے دور اقتدار میں اس کے متعلق سخت تبصرے بھی کیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا تھا: 'ہماری تو کوشش رہی ہے کہ سیاسی جماعتیں کیش (نقد) لینے کے چلن کو بند کریں۔ مگر اس پر بہت کام کرنا ابھی باقی ہے۔'
بہرحال اس رپورٹ کے مطابق گذشتہ 11 سال کے دوران کانگریس پارٹی کو 3،323 کروڑ 39 لاکھ روپے کی آمدنی نامعلوم ذرائع سے ہوئی جو کہ پارٹی کی کل آمدن کا 83 فیصد ہے۔
جبکہ نیشنل الیکشن واچ اور اے ڈی آر کے مطابق بی جے پی کی 65 فیصد آمدنی نامعلوم ذرائع سے آئی، یہ رقم 2،125 کروڑ 95 لاکھ روپے ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہSUKHBIR SINGH BADAL FACEBOOK
علاقائی جماعتوں میں سماج وادی پارٹی کا ریکارڈ قدرے حیرت انگیز ہے کیونکہ تازہ رپورٹ کے مطابق سماجوادی پارٹی کی کل آمدن کا 94 فیصد جو 766 کروڑ 27 لاکھ روپے ہے اس کے ذرائع کا علم نہیں جبکہ پنجاب کی اہم پارٹی شرومنی اکالی دل کی 86 فیصد آمدن یعنی 88 کروڑ 6 لاکھ روپے کے ذرائع کا علم نہیں۔
بھارت میں سیاسی جماعتوں اور انتخابات پر نظر رکھنے والے ان دونوں اداروں کے مطابق نامعلوم ذرائع میں کوپن کی فروخت، تاحیات امداد، اور ریليف فنڈ سے ہونی والی آمدن وغیرہ بھی شامل ہوتی ہیں۔
جبکہ سیاسی جماعتوں کی آمدنی کے معلوم ذرائع میں نقد رقم اور جائیداد، رکنیت کی فیس اور بینک سے ملنے والے منافع وغیرہ کا ذکر ہوتا ہے۔








