فلمیں اب بھی دلوں کو چھو رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بالی وڈ کے معروف اداکار اوم پوری کے انتقال سے آرٹ با الخصوص فلم اور تھیئٹر کی دنیا کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ اوم پوری کا شمار ان چند اداکاروں میں ہوتا تھا جن سے لوگ اپنی شناخت کیا کرتے تھے۔
انھوں نے فلم اور ادکاری میں شہرت حاصل کی، انھیں بے پناہ کامیابی اور دولت نصیب ہوئی لیکن انھوں نے کبھی اپنی سادگی اور سادہ لوحی نہیں چھوڑی۔ ان کے اندر کا انسان اور آرٹسٹ ان کی آخری سانس تک زندہ رہا۔
اوم پوری اداکاروں کی اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جس میں نصیرالدین شاہ، شبانہ اعظمی، فاروق شیخ، سمتا پاٹل، اور دیپتی نول جیسے بہترین آرٹسٹ شامل تھے۔
اسّی کی دہائی ان اداکاروں کی بہترین آرٹ فلموں کے لیے ہمیشہ یاد کی جائے گی۔ آرٹ فلمیں حقیقت پرمبنی ہوتی تھیں۔ ان میں انسانی رشتوں کے مختلف پہلوؤں کو انسانی اور حقیقت پسندی کے روپ میں پیش کیا جاتا تھا۔
اوم پورری ایسی فلموں کو 'ہارڈ ہٹنگ' کہا کرتے تھے۔ ان فلموں کے پیغامات اتنے موثر ہوتے تھے کہ وہ شائقین کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے تھے اور شائقین کو اکثر غمزدہ کر دیتے۔ اس طرح کی بیشتر فلمیں کامیاب رہیں حالانکہ ان میں بہت سی فلمیں مالی اعتبار سے زیادہ فائدے مند ثابت نہیں ہوئیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان فلموں کا بنیادی مقصد بھی آرٹ اور اس کی افادیت تھی، تجارت نہیں۔ آرٹ فلموں کا سلسلہ ایک طویل عرصے تک چلا۔ بالی وڈ میں میں سٹریم کمرشل فلمیں غالب رہیں۔
انڈیا ایک ایسا ملک ہے جہاں غریبوں کی اکثریت رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب سینیما نہ صرف تفریح اور ثقافتی سرگرمی کا واحد ذریعہ تھا بلکہ یہ ایک بڑی اکثریت کے لیے مایوسی اور یاس کے ماحول میں ایک مثبت توانائی اور امید کا ذریعہ تھا۔ آزادی کے بعد فلم سے کئی دہائی تک ملک کے سرکردہ ادیب اور شاعر وابستہ رہے۔
بالی وڈ میں بننے والی فلموں کا بنیادی نیچر تفریحی ہوتا تھا اور فلموں کو تفریحی اعتبار سے دلچسپ بنانے کے لیے کئی نغمے بھی اس میں شامل کیے جاتے تھے۔ ابتدا میں نغموں کی تعداد اکثر آٹھ سے زیادہ ہوا کرتی تھی۔ اب یہ تعداد کم ہو گئی ہے۔ لیکن اب بھی یہ فلم کا ایک کلیدی پہلو ہے اور کئی بار خوبصورت نغموں کے سبب فلمیں چل جاتی ہیں اور جانی جاتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آرٹ فلمیں سنجیدہ ہوتی تھیں اور انھیں حقیقت سے قریب لانے کے لیے ان میں کئی بار نغمے بھی نہیں ہوتے تھے یا پھر بہت کم ہوتے تھے۔ 'ارتھ' ، 'معصوم'، 'گرم ہوا'، 'آکروش'، 'ماچس'، 'اردھ ستیہ' اور اس طرح کی متعدد فلمیں اس زمرے میں بنیں اور دل و دماغ کو چھو گئیں۔ یہ فلمیں کسی اہم معاشرتی پہلو پر مرکوز ہوتی تھیں اور ایک واضح پیغام دیتی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے برعکس کمرشل فلمیں خالصتاً تفریحی ہوتی تھیں۔ ان کا مقصد تجارتی ہوتا تھا۔ ان کے موضوعات عمومی طور پر پیار ومحبت ہوتے تھے۔ لیکن ان تفریحی فلموں کے ذریعے بھی اہم سماجی پیغامات ہمیشہ دیے جاتے رہے ہیں۔
مذہبی ہم آہنگی کا سوال رہا ہو، عورت مرد کے درمیان جنسی برابری کی بات ہو، کمزور طبقے کے حق کی بات ہو، کرپشن ہو، ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی بات ہو، نا انصافی کا سوال، سماج کے ہر اہم پہلو پر ان فلموں میں اپنے اپنے انداز میں پیغامات دیے گئے ہیں۔ اور ان کا بھارتی معاشرے پر گہرا اثر بھی پڑتا ہے۔
فلم کسی بات کو عوام تک پہنچانے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ 'بجرنگی بھائی جان' ہو یا 'او مائی گاڈ' یا پھر تازہ ترین فلم 'دنگل' ۔ ان سبھی میں انتہائی طاقتور پیغامات دیے گئے ہیں۔ یہ عوام کی سوچ کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔ بالی وڈ کی فلمیں جیسی بھی ہوں ان کے پیغامات مثبت اور لبرل تصوارت کی نمائندگی کرتے ہیں۔
او م پوری اور ان جیسے اداکاروں نے آرٹ اور تخیل کے ذریعے ایک بہتر معاشرے کے لیے جو کردار ادا کیا ہے اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔









