سماج وادی پارٹی میں 'تقسیم'، باپ بیٹے آمنے سامنے

ملائم سنگھ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنملائم سنگھ یادو نے اتوار کو منعقدہ کانوینشن کو غیر آئینی قرار دیا ہے

انڈیا کی ریاست اترپردیش میں حکمراں جماعت سماج وادی پارٹی میں سیاسی بحران پیدا ہو گيا ہے۔

پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو نے رام گوپال یادو کو تیسری بار پارٹی سے نکال دیا ہے جبکہ اتوار کو منعقدہ نیشنل کنوینشن میں رام گوپال یادو نے ان کے بیٹے اور ریاست کے وزیر اعلی اکھلیش یادو کو نیا صدر نامزد کر دیا ہے۔

سابق وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو نے اس کنوینشن کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور پارٹی کارکنوں کے نام تحریر کردہ اپنے خط میں رام گوپال کو چھ سال کے لیے پارٹی سے برطرف کرنے کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز سنيچر کو ہی رام گوپال یادو اور اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو کو پارٹی میں واپس لے لیا گیا تھا۔

ان دونوں کو ملائم سنگھ نے اس سے ایک دن قبل جمعے کو پریس کانفرنس کے ذریعے پارٹی سے چھ سال کے لیے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔

اکھلیش یادو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناتوار کو منعقدہ کانوینشن میں اکھلیش یادو کو سماجوادی پارٹی کا صدر نامزد کیا گيا ہے

ملائم سنگھ یادو نے اپنے خط میں پانچ جنوری کو لکھنؤ کے جنیشور مشرا پارک میں پارٹی کا اجلاس طلب کیا ہے جبکہ ایک دھڑے نے اتوار کو اسی پارک میں اجلاس منعقد کرکے اکھلیش یادو کو پارٹی کا قومی صدر قرار دیا ہے۔

ملائم سنگھ یادو نے اتوار یعنی یکم جنوری کو ہونے والے اجلاس کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دیا۔

لکھنؤ سے سینيئر صحافی رام دت ترپاٹھی نے بتایا ہے کہ کسی بھی پارٹی کا نیشنل اجلاس یا مجلس عاملہ کی میٹنگ طلب کرنے کا اختیار پارٹی کے صدر کے پاس ہوتا ہے اور اس لیے تکنیکی طور پر اتوار کو ہونے والا نیشنل کنوینشن غیر آئينی ہے اور یہی ملائم سنگھ یادو نے بھی کہا ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ 'پارٹی میں اس تقسیم سے یہ واضح ہو گيا ہے کہ اب اس پارٹی کی قیادت کا فیصلہ پارٹی نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کی سطح پر ہوگا۔'

خیال رہے کہ چند ماہ کے دوران اترپردیش کی ریاستی اسمبلی کےانتخابات ہونے والے ہیں اور سیاسی ماہرین اس پیش رفت کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔