چینی شاہی مہر کی ریکارڈ 22 کروڑ ڈالر میں نیلامی

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGES
پیرس میں چین کی ایک 18 ویں صدی کی شاہی مہر نیلام کی گئي جو اندازے سے 20 گنا زیادہ قیمت پر ریکارڈ 22 کروڑ ڈالر میں فروخت ہوئی ہے۔
پیرس کے ڈروؤ نیلامی گھر کے مطابق بدھ کے روز اس مہر کو نیلام کیا گيا جسے حاصل کرنے کے لیے زبردست بولیاں لگائی گئیں اور بالآخر چین کے ایک نا معلوم شخص نے اسے خرید لیا۔
ہتھیلی کے سائز کی یہ مہر سرخ و سفید ابرق نما معدنی پتھر کی بنی ہے۔
اٹھارہویں صدی میں چین پر حکمرانی کرنے والے چینی باد شاہ قیان لونگ کے پاس ایسی سینکڑوں مہریں تھیں جس میں سے یہ ایک ہے۔ وہ چین پر طویل وقت تک حکمرانی کرنے والے بادشاہوں میں سے سے ایک تھے۔
اس سے قبل سنہ 2011 میں ایک مہر نیلام کی گئی تھی جو تقریباً 15 کروڑ ڈالر میں فروخت ہوئی تھی۔
نیلامی گھر کے مطابق پیرس میں فروخت ہونے والی مذکورہ مہر فرانس کی بحریہ میں شامل ایک نوجوان ڈاکٹر نے حاصل کی تھی۔ انھوں نے 19ویں صدی کے اواخر میں چین کا دورہ کیا تھا اور تب سے یہ مہر اسی خاندان کے پاس تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGES
ایشیائی آرٹ کے ماہر الائس جسیوم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ امید یہ کی جارہی تھی کہ یہ مہر آٹھ سے 10 لاکھ یورو کے درمیان فروخت ہوگی۔
شاہ قیان لونگ خود فن پاروں کے شوقین تھے جنھوں نے 18ویں صدی میں ایک بڑے عرصے تک چین پر راج کیا۔ وہ خود بھی ایک فنکار تھے جو اپنے فن پاروں پر دستخط کرنے کے لیے مہر کا استعمال کرتے تھے۔ انھوں نے دوسروں کے باریک فنی کاریگری اور فن پاروں کو کمیشن بھی کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بدھ کے روز پیرس میں جو مہر نیلام کی گئی اس میں نو اژدہے بنے ہیں جس سے مردانگی اور شاہی اتھارٹی کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔
نیلامی گھر کا کہنا ہے کہ 1800 سے بھی زیادہ قیان لونگ مہریں تیار کی گئی تھیں جس میں سے تقریباً 700 تو غائب ہوچکی ہیں۔ اس میں سے تقریباً ایک ہزار کے قریب بیجنگ کے چائنا پیلس میوزیم میں رکھی ہوئی ہیں۔







