راہول گاندھی: 'نریندر مودی نوٹ پر پابندی پر بحث سے خوفزدہ ہیں'

راہول گاندھی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنراہول گاندھی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نریندرمودی نوٹ پر پابندی کے تعلق سے ایوان میں بحث نہیں کرنا چاہتے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

انڈيا میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے موجودہ حکومت کی جانب سے کرنسی نوٹوں پر پابندی کے فیصلے کو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا گھپلہ قرار دیا ہے۔

جمعے کو راہول گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کرنسی کے معاملے پر پارلیمان میں ہونے والی بحث میں حصہ لینے سے خوفزدہ ہیں۔

راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ 'حکومت مجھے بولنے سے روک رہی ہے۔ انھیں پتہ ہے کہ اگر وہ مجھے بولنے دیں گے تو حقیقت سامنے آجائے گی۔ ملک میں زلزلہ آ جائے گا۔ میں بتاؤں گا کہ یہ کس کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا ہے۔'

حکومت نے آٹھ نومبر کو 500 اور 1000 روپے کے کرنسی نوٹوں پر پابندی کا فیصلے کیا تھا۔ اس کے بعد پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایوان کی کارروائی اسی تنازع کی وجہ آگے نہیں بڑھ سکی۔

کرنسی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنس تعطل کےدرمیان پورے ملک میں اب بھی بینکوں اور اے ٹی ایم کے باہر روپے نکالنے کے لیے روزآنہ لوگوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں

حزب اختلاف کی جماعتیں نہ صرف وزیر اعظم مودی سے اس پر بیان دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں بلکہ وہ تحریک التوا کے ضابطے کے قانون کے مطابق بحث چاہتی ہے جس میں بحث کے بعد ووٹنگ ہوتی ہے۔ حکومت بحث کے لیے تیار ہے لیکن وہ اس مخصوص قانون کے تحت بحث نہیں چاہتی۔

راہول گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم پورے ملک میں نوٹ پر پابندی کے حوالے سے تقریریں کر رہے ہیں لیکن وہ ایوان میں نہیں بولنا چاہتے۔

انھوں نے کہا کہ 'اتنی گھبراہٹ کیوں ہے۔ ایوان میں آ کر بولیے۔ پورا ملک جو محسوس کر رہا ہے ہم وہ بات کریں گے۔'

حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینيئر رہنما وینکیا نائیڈو نے نوٹوں پر پابندی کے فیصلے کو تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اختلاف دانستہ طور پر پارلیمان کی کارروائی میں رخنے ڈال رہی ہے۔

انڈیا میں اب بھی بینکوں اور اے ٹی ایم کے باہر روپے نکالنے کے لیے روزآنہ لوگوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹ پر پابندی لگنے کے بعد اب تک پرانی کرنسی کے ساڑھے گیارہ لاکھ کروڑ روپے بینکوں میں جمع ہو چکے ہیں۔ تقریبآ چودہ لاکھ کروڑ روپے مالیت کے نوٹ ابھی بھی گردش میں ہیں۔

نوٹوں پر پابندی کا اعلان کرتے وقت مودی نے کہا تھا کہ اس کا مقصد کالے دھن کو ختم کرنا ہے اور اس قدم سے بڑی تعداد میں زیر گردش جعلی نوٹوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور دہشت گردی کی مالی مدد بند ہو جائے گی۔

راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ حکوت نے پہلے کالے دھن کی بات کی، پھر جعلی نوٹوں اور دہشتگردی کی مالی معاونت روکنے کی بات کی۔ اب وہ 'کیش لیس' اکونومی کی بات کر رہے ہیں۔