چینی صدر اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات جلد متوقع

شی جنپنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنچینی سرکاری میڈیا کے مطابق شی جنپنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات جلد متوقع

چینی صدر شی جن پنگ اور نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ چین اور امریکہ کے باہمی تعلقات پر مذاکرات کے لیے جلد ہی ملاقات کریں گے۔

چین کی سرکاری ٹیلیویژن سی سی ٹی وی کے مطابق پیر کو صدر شی جن پنگ نے ٹیلیفون پر نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کی اور کہا کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کو ایک دوسرے کے تعاون کی ضرورت ہے اور یہ کہ بہت سی چیزوں میں تعاون ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران چین کے خلاف بیانات دیتے رہے ہیں اور انھوں نے چین کے بنے سامان پر 45 فیصد کا محصول لگانے کی بھی بات کی تھی۔

منتخب ہونے سے قبل مسٹر ٹرمپ نے ایشیا کی بڑی معیشت چین کو امریکہ کا 'دشمن' بھی قرار دیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ چین نے مصنوعی طور پر اپنی کرنسی کی قیمت کم رکھی ہے تاکہ وہ اپنی برآمدات کو تقویت پہنچا سکے۔

سی سی ٹی وی کے مطابق صدر جن پنگ اورڈونلڈ ٹرمپ نے 'قریبی تعلقات برقرار رکھنے، بہتر عملی تعلقات بنانے اور باہمی مفاد کے مسائل اور باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے جلد ممکنہ تاریخ پر مذاکرات کرنے کا عہد کیا ہے۔'

امریکہ اور چین کے پرچم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکہ اور چین ایک دوسرے کے روایتی حریف رہے ہیں تاہم دونوں میں تجارتی تعلقات بہتر ہیں

مسٹر ٹرمپ نے 'قوت کے ساتھ امن قائم کرنے' اور امریکی بحریہ کو مضبوط بنانے کی پالیسی اپنانے کا عہد کیا ہے۔

بہر حال مسٹر ٹرمپ نے دور دراز کے فضول کے مسائل میں اپنی عدم دلچسپی کا عندیہ دیا اور ٹرانس پیسفک پارٹنرشپ کے تحت آزاد تجارت کے معاہدے کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔

خیال رہے کہ اس مجوزہ معاہدے میں بہت سے ایشائی ممالک شامل ہیں اور اس سے وہاں امریکی اثرورسوخ میں اضافہ ہوگا لیکن امریکہ میں روزگار کی کمی کے سبب مسٹر ٹرمپ نے اسے زیادہ اہمیت نہیں دی۔

سی سی ٹی وی کے مطابق مسٹر ٹرمپ نے چین کو ایک بڑا اور اہم ملک قرار دیا اور اس کے ساتھ کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان کے خیال میں چین اور امریکہ کے بہتر تعلقات دونوں ممالک کے لیے 'سودمند' ہیں۔