بنارس: مذہبی اجتماع میں بھگدڑ سے 25 ہلاکتیں، پانچ پولیس افسران معطل

ہندوؤں کے لیے مقدس سمجھے جانے والے انڈین شہر وارانسی(بنارس) میں سنیچر کو بھگدڑ کے دوران ہلاکتوں کے بعد ریاستی حکومت نے پانچ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔

یہ بھگدڑ بنارس کے مضافات میں واقع رام نگر پل پر مچی تھی اور اس میں 25 افراد مارے گئے تھے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

یہ افراد پل سے ہو کر بابا جے گرودیو کے مذہبی اجتماع میں حصہ لینے کے بعد واپس جا رہے تھے کہ ہجوم کے پیروں تلے کچلے گئے۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا تھا کہ مذہبی اجتماع میں تین ہزار زائرین کی شرکت متوقع تھی لیکن اس کی بجائے وہاں 70 ہزار افراد پہنچ گئے۔

اس حادثے کی ایک عینی شاہد شیلا نے سنیچر کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا، 'جب لوگ واپس آ رہے تھے تب انھیں پل پر جانے سے روک دیا گیا اور پھر بھگدڑ مچ گئی۔'

ایک منتظم راج بہادر نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا کہ پولیس نے لوگوں کو ایک پل سے واپس بھیجنا شروع کیا تو کسی نے افواہ پھیلا دی کہ پل ٹوٹا ہوا ہے، جس کے بعد لوگ جان بچانے کے لیے اندھادھند دوڑنے لگے۔

مقامی صحافی سميراتمج مشرا نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ریاستی حکومت نے وزیر مملکت سریندر پٹیل کو وارانسی میں امدادی کاموں کی نگرانی کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے

ریاستی حکومت نے وارانسی کے کمشنر کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور وزیر اعلی اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد مزید افسران خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

حکومت نے ہلاک شدگان کے خاندان والوں کے لیے پانچ پانچ لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ زخمیوں کو ڈھائي لاکھ روپے دیے جائیں گے۔