روپے کے مقابلے میں ڈالر مستحکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی روپیہ بدھ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں کم ترین سطح پر رہا اور اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قیمت 77.65 روپے رہی۔ ماہرین کے مطابق امریکی ڈالر دنیا بھر میں مستحکم ہوا ہے اور ڈالر میں یہ استحکام امریکہ کی بہت بڑی انشورنس کمپنی امریکن انٹرنیشنل گروپ یعنی اے آئی جی کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے امریکہ کے مرکزی بینک کی پچاسی ارب ڈالر سے اس میں نئی روح پھونکنے کی کوشش کے بعد دیکھنے میں آیا۔ اس سے پہلے امریکہ کے بڑے بینک لہمین برادرز کی جانب سے دیوالیہ ہونے کی درخواست دیے جانے کے بعد ایشیاء کے حصص بازاروں میں شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا تھا۔ فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان ہوتی نے بتایا کہ امریکہ میں معاشی صورتحال کا اثر پاکستانی کرنسی کچھ زیادہ نہیں لےگی۔ ان کے بقول جب تک بیس ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو کم نہیں کیا جائے گا اور مزید سرمایہ کاری ملک میں نہیں آئے گی اس وقت تک روپے پر دباؤ کم نہیں ہوپائے گا اور یہی وجوہات ہیں جو روپے کی قدر میں کمی کی بنیادی وجوہات ہیں۔ جہاں تک امریکی معیشت کے منفی اثرات کا تعلق ہے تو بوستان ہوتی کا کہنا تھا کہ پاکستانی کرنسی کا بہت زیادہ حجم نہیں اور نہ ہی وہ انٹرنیشنل منی مارکیٹ میں رجسٹر ہے لہذٰا امریکی معیشت کے منفی اثرات پاکستانی کرنسی پر پڑنے کے امکانات نظر نہیں آتے۔ ان کے بقول امریکی معیشت بہت بڑی معیشت ہے اور اگر اس کی اقتصادی صورتحال خراب ہوتی ہے تو اس کا اثر پوری دنیا پر پڑے گا اور اس میں پاکستان بھی شامل ہوگا تاہم فوری طور پر اس کے اثرات نظر نہیں آتے۔ ایک اقتصادی ماہر ظفر موتی کا کہنا ہے کہ جو ممالک گلوبلائزیشن میں امریکہ سے قریب تھے نقصان بھی ان ہی کا زیادہ ہوگا اور چونکہ پاکستان میں گلوبلائزیشن کا کوئی زیادہ فائدہ نہیں ہوا اور امریکی سرمایہ کاروں کی جانب سے صرف دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی لہذٰا امریکہ میں معاشی صورتحال کا منفی اثر بھی پاکستان میں کم پڑنے کا امکان ہے۔ پاکستان کی معیشت ویسے ہی لڑکھڑا رہی ہے اور عام لوگوں کے ذہنوں میں فوری طور پر ایک سوال ابھرتا ہے کہ اب تو جانے کیا ہو۔ لیکن ظفر موتی کا کہنا ہے کہ امریکی بینک کی جانب سے دیوالیہ ہونے کی درخواست کے بعد پاکستانی معیشت پر فوراً ہی کوئی خاص اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ ہاں پاکستان کی برآمدات پر منفی اثرات ضرور مرتب ہوسکتے ہیں تاہم عام آدمی کا نقصان ہونے کے بجائے کچھ فائدہ ہی ممکن ہے۔ ایک اور اقتصادی ماہر اظہر باٹلہ کا کہنا ہے کہ براہِ راست تو کوئی نقصان نظر نہیں آتا لیکن اب سرمایہ کاری آنا نہ صرف کم ہوسکتی ہے بلکہ سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ سے اپنا پیسہ نکالنا شروع کردیں گے جس سے بہرحال نقصان پاکستان کو ہی ہوگا۔ اظہر باٹلہ کے بقول کراچی اسٹاک مارکیٹ میں اپر اور لوور لاک پچھلے چند ہفتوں سے لگائے گئے تھے اور اسی کی وجہ سے امریکی بینک کی طرف سے دیوالیہ کی درخواست کے بعد ایشیاء کے تمام حصص بازاروں میں شدید مندی رہی لیکن پاکستان اس سے محفوظ رہا۔ لیکن جب بھی یہ لاک کھولے جائیں گے تو بیرونِ ملک سرمایہ کار اپنا سرمایہ اسٹاک مارکیٹ سے نکالیں گے اور خدشہ ہے کہ آگے چل کر معیشت پر اس کے اچھے اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ | اسی بارے میں کراچی بازارِ حصص میں ریکارڈ مندی05 November, 2007 | پاکستان پاکستان میں عالمی مندی دو روز پہلے 12 August, 2007 | پاکستان بحران: سٹاک ایکسچینجز پر حملے17 July, 2008 | پاکستان امریکہ:مالی بحران، بڑی کمپنیاں مشکل میں15 September, 2008 | آس پاس ’ایسا مشکل وقت پہلے نہیں دیکھا‘15 September, 2008 | آس پاس اے آئی جی کے لیے پچاسی ارب ڈالر17 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||