BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 July, 2008, 14:01 GMT 19:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
توانا پاکستان ’گھپلے‘ پر طلبی

 شوکت عزیز
شوکت عزیز انگلینڈ میں مقیم ہیں
سماجی بہبود اور خصوصی تعلیم کے بارے میں سینٹ کی قائم کمیٹی نے توانا پاکستان منصوبے میں ہونے والے کروڑوں روپے کی بےضابطگیوں پر سابق وزیر اعظم شوکت عزیز اور دو سابق وفاقی وزراء کو تئیس اگست کو طلب کرلیا ہے۔

اس کمیٹی کے سربراہ سینیٹر انور بیگ کا کہنا ہے کہ سینٹ سیکرٹریٹ اس ضمن میں سابق وزیر اعظم سے رابطہ کر رہا ہے کہ وہ آکر کمیٹی کو اس حوالے سے وضاحت پیش کریں۔

کمیٹی کا اجلاس سنیچر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں اس منصوبے کے حوالے سے کمیٹی کے ارکان کو بریفنگ دی گئی۔

 اس منصوبے پر ساٹھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم خرچ ہوئی تھی جس میں بیالس کروڑ روپے کا ریکارڈ نہیں ہے
بیت المال کے چیئرمین زمرد خان

سماجی بہبود اور خصوصی تعلیم کے سابق سیکرٹری علیم محمود نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ یہ منصوبہ ملک کے انتیس اضلاع میں شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد سکول جانے والے بچوں کو حکومت کی طرف سے دودھ اور ادویات فراہم کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں بڑے گھپلے کیے گئے ہیں اور جب اس حوالے سے مختلف اضلاع کا دورہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ بعض جگہوں پر سکول ہی نہیں ہیں اور کچھ علاقوں میں سکول جانے والے بچوں کی تعداد انتہائی کم تھی جبکہ اس حوالے سے فنڈز بہت زیادہ جاری کیے گئے۔

اس پروگرام کے تحت پانچ لاکھ سے زائد طلباء اور طالبات کو تازہ کھانا، دودھ اور ادویات فراہم کی جانی تھیں۔

سابق سیکرٹری کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر بےقاعدگیوں کو دیکھتے ہوئے اس پروگرام پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔

بیت المال کے چیئرمین زمرد خان نے اجلاس کو بتایا کہ اس منصوبے پر ساٹھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم خرچ ہوئی تھی جس میں بیالس کروڑ روپے کا ریکارڈ نہیں ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کے بارے میں ہونے والے آڈٹ میں بھی بے قاعدگیوں کا پتہ چلا تھا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سماجی بہبود کی سابق وزیر زبیدہ جلال، بیگم عطیہ عنایت اللہ اور پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین اکرم شیخ سمیت اس منصوبے سے منسلک اعلی افسران کو بھی کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے اور اُن سے اس حوالے سے وضاحت طلب کی جائے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر انور بیگ نے کہا کہ اگر سابق وزیر اعظم کو پاکستان آنے کے حوالے سے سیکورٹی کے خدشات ہیں تو وہ حکومت سے دوخواست کریں گے کہ انہیں مناسب سیکورٹی فراہم کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد