درہ آدم خیل، فوجی قافلے پر حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے نیم خودمختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں حکام کے مطابق ایک فوجی قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم حملے میں دو فوجی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ مقامی طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ درہ آدم خیل میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بدھ دوپہر کو اس وقت پیش آیا جب بابو زئی کلی میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر بٹن دبا کر بم حملہ کیا گیا جس سے قافلے میں شامل دو فوجی اہلکار زخمی ہوگئے۔ دھماکے سے ایک فوجی گاڑی بھی تباہ ہوگئی ہے۔ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے سارے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور مرکزی انڈس ہائی وے کچھ وقت کےلیے بند کردیا۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے قافلے کو راکٹ حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے جس میں پانچ اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ درہ آدم خیل میں مبینہ مقامی طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ درہ آدم خیل میں خود کو مقامی طالبان کے ترجمان ظاہر کرنے والے عبد اللہ نامی ایک شخص نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ یہ حملہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے ان کے ایک ساتھی کے گھر کو مسمار کرنے کے جواب میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیاں ترک نہ کی تو ان کے حملوں میں مزید شدت آسکتی ہے۔ درہ آدم خیل میں گزشتہ چار دنوں میں سکیورٹی فورسز پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ اس سے پہلے بھی فوجی قافلے کو بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا تھا تاہم بعد میں سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کرتے ہوئے تین عسکریت پسندوں کو ہلاک اور چندگرفتار کئے تھے۔ ان واقعات کے بعد درہ آدم خیل میں امن وامان کی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہوگئی ہے۔ ادھر ایک اور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کے مطابق ایک حکومتی حامی قبائلی ملک کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کردیا ہے۔ | اسی بارے میں حکومت، طالبان: قیدیوں کا تبادلہ14 May, 2008 | پاکستان مالاکنڈ: شریعت کا نفاذ ایک ماہ میں13 May, 2008 | پاکستان جرگہ: لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی 09 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||