سربجیت کی پھانسی پھر مؤخر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکومت نے بھارتی شہری سربجیت سنگھ کی پھانسی کو مؤخر کر دیا ہے ۔ سربجیت سنگھ کو جاسوسی اور بم حملے کرنے کے الزام میں یکم اپریل کو پھانسی دی جانی تھی لیکن پھر تاریخ کو آگے بڑھا کر اسے یکم مئی مقرر کیا گیا تھا۔ سزا کو اب تین ہفتے تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ پچھلے مہینے صدر مشرف نے سربجیت سنگھ کی رحم کی اپیل مسترد کر دیا تھا اور ان کے موت کے حکمنامے پر دستخط کر دیئے تھے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سربجیت بھارت فرار ہونے کی کوشش کرتے وقت پکڑا گیا تھا اور وہ در اصل حکام کو مطلوب ملزم منجیت سنگھ ہے۔اس کو جاسوسی کرنے اور انیس سو نوے میں لاہور اور فیصل آباد میں بم دھماکے کرنے کے جرم میں قصوروار پایا گیا تھا۔ ان بم حملوں میں چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم سربجیت سنگھ کا موقف رہا ہے کہ وہ بے قصور ہے اور وہ محض ایک غریب کسان ہے جو غلطی سے پاکستانی سر زمین میں آگیا تھا۔ سربجیت کے خاندان پچھلے دنوں وقت پاکستان آئے ہوئے تھے۔ ان میں اس کی بیوی، دو بیٹیاں، بہن اور بہنوئی شامل تھیں اور وہ ان کی سزائے موت رکوانے کے کوششیں کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ملے ہیں اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زدرادری سے ملاقات کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔
پیر کو نواز شریف نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ انسانی بنیادوں پر سربجیت کی سزائے موت ختم کر دے۔ ایک نجی ٹیلی وژن چینل سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ سربجیت کے خاندان کی حالت دیکھ کر کسی بھی انسان کو ان کے درد کا اندازہ ہو سکتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ سربجیت کو اس شرط پر رہا کرنا چاہیے کہ اگر ان کے خلاف مزید کوئی ثبوت ملی تو بھارت انہیں واپس پاکستان بھیج دے گا۔ سربجیت سنگھ کے خاندان والوں نے پچھلے ہفتے اس سے جیل میں ملاقات کی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس کی رہائی اور معافی کے لیے پر امید ہیں۔ | اسی بارے میں سربجیت: سزا ایک ماہ کے لیےملتوی19 March, 2008 | پاکستان سربجیت سنگھ کا بلیک وارنٹ17 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||