BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 March, 2008, 08:05 GMT 13:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بورڈ آف ریونیو دفتر میں آگ

آگ
یہ دفتر سندھ سیکریٹریٹ کے احاطے میں واقع ہے
کراچی میں واقع بورڈ آف ریونیو کی ایک سو سالہ قدیمی عمارت میں جمعرات کی صبح آگ بھڑک اٹھی، جسے تین گھنٹے کے بعد کنٹرول کرلیا گیا ہے مگر اہم سرکاری اور نجی ریکارڈ متاثر ہوا ہے جس میں سے کچھ جل گیا ہے تو کچھ ملبے میں دب گیا ہے۔

یہ دفتر سندھ سیکریٹریٹ کے پرانی بیرکس میں واقع ہے۔ بورڈ آف رونیو صوبے کی زمینوں کے مالکانہ حقوق کا ریکارڈ رکھنے کا کام کرتا ہے۔ جس کی عمارت میں رونیو کے چار ممبران، وویمین ڈویلپمنٹ اور ڈسٹرکٹ آرمڈ سروسز کے دفاتر واقع ہیں۔

بورڈ آف ریونیو کے ایک ملازم محمد صابر نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح ساڑھے دس بجے کے قریب ریکارڈ روم سے دھواں اٹھ رہا تھا جس کی فوری اطلاع فائر برگیڈ کو دی گئی، مگر فائر برگیڈ والے کوئی ایک گھنٹے کی تاخیر سے پہنچے جب تک عمارت سخت متاثر ہو چکی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ دفتر کے پیچھے کچرا پڑا تھا، جس میں پہلے آگ بھڑکی اور اس ہوا کی وجہ سے اس نے دفتر کو لپیٹ میں لے لیا۔

جمعرات کو عید میلاد النبی کی سرکاری تعطیل کی وجہ سے دفاتر بند تھےجس کی وجہ سے فائر بریگیڈ کو اندر داخل ہونے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا مگر بعد میں اہلکار تالے توڑ کر اندر داخل ہوگئے۔

فائر برگیڈ کے چیف افسر سلیم احتشام نے تاخیر سے پہنچنے کے الزام کو رد کیا اور کہا کہ اطلاع ملتے ہیں گاڑیاں نکل گئی تھیں، ان کے مطابق ریکارڈ اور لکڑی کی عمارت کی وجہ سے آگ تیزی کے ساتھ پھیلی اور بارہ کمرے اور اس میں موجود ریکارڈ تقریباً خاکستر ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عمارت مخدوش ہوچکی ہے اور قابل استعمال نہیں رہی۔

متاثرہ دفاتر میں سروے اور زمین کا ریکارڈ، نقشے اور پاکستان کے قیام کے بعد دائر کیےگئے کلیموں کا ریکارڈ موجود تھا۔

ملازمین کی موجودگی
 چھٹی والے روز ایک ڈپٹی سیکرٹری سمیت ریونیو بورڈ کے کچھ ملازمین بھی دفتر میں موجود تھے لیکن بورڈ آف ریونیو کے ایک ممبر نے اس کی تردید کی۔
صوبائی حکومت نے جمعرات اور جمعہ کو چٹھی کا اعلان کر رکھا ہے مگر بی بی سی کو بورڈ آف ریونیو کے کچھ ملازمین نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک ڈپٹی سیکرٹری سمیت کچھ بورڈ کے اور ملازمین بھی دفتر میں موجود تھے۔

بی بی سی نے جب بورڈ آف ریونیو کے سینئر ممبر انوار حیدر سے رابطہ کیا تو انہوں نے چھٹی والے دن کچھ ملازمین کی موجودگی کی تردید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ عمارت کی حفاظت پر پولیس اور چوکیدار مامور ہیں اس لیے تخریب کاری کا تو اندیشہ نہیں ہے مگر ہوسکتا ہے کہ شارٹ سرکٹ یا اور کسی وجہ سے آگ بھڑ اٹھی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ دفاتر بند تھے اور کوئی موجود نہیں جو کسی کہ سگریٹ کی وجہ سے آگ لگی ہو۔

واضح رہے کہ یہ عمارت پاکستان بننے سے قبل کی ہے اور یہ جگہ اولڈ بیرکس کہلاتی ہے۔ پاکستان کی تخلیق سے پہلے سے لے کر آج تک کے سرکاری و نجی زمینوں اور پلاٹوں کے کاغذات کا ریکارڈ یہاں موجود ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل چھٹی کے دنوں میں دو مرتبہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی عمارت کو آگ لگ چکی ہے جس میں کمپنی کا ریکارڈ خاکستر ہو گیا تھا لیکن اس کی وجوہات کی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے۔

سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نو منتخب اراکین نےحالیہ پریس کانفرنسوں میں الزام عائد کیا تھا کہ سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ کی جا رہی ہے۔ اور انہوں نے حکومت میں آ کر اس کی تحقیقات کا فیصلہ کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد