حلف، جھوٹا یا سچا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج نئی قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس میں سے تین سو اٹھائیس ارکان نے اپنے عہدے کا آیینی حلف اٹھایا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی مختلف شقوں اور حلف ناموں کو اگر ملا کر پڑھا جائے یا موازنہ کیا جائے تو کئی مقامات پر دلچسپ صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ مثلاً: ۔قانون، امن ِ عامہ اور اخلاقی اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے ہر شہری کو عقیدے، عمل اور تبلیغ کا حق ہے ( آرٹیکل بیس )۔ جبکہ وزیرِ اعظم بھی کوئی ایسی شخصیت ہی بن سکتی ہے جو آئین میں دیے گئے حلف کے مطابق اللہ تعالی کی یکتائی، قران کو آخری کتاب، رسول اللہ کو نبی آخرالزماں تسلیم کرے۔اس کا یومِ آخرت اور قران و سنت پر مکمل ایمان ہو۔گویا عورت صدر نہیں بن سکتی جبکہ غیر مسلم پاکستانی نہ صدر بن سکتا ہے اور نہ ہی وزیرِ اعظم۔ تو کیا ایک غیر مسلم پاکستانی جسے آئین کے تحت مساوی مذہبی، قانونی، سیاسی حقوق حاصل ہیں دیگر اعلی عہدوں پر فائز ہوسکتا ہے۔ آئینِ پاکستان کے تیسرے شیڈول میں گورنر، وزیرِ اعلی، وزرا، ارکانِ پارلیمان و صوبائی اسمبلی کے لیے جو حلف نامہ دیا گیا ہے وہ بسم اللہ الرحمان الرحیم سے شروع ہوتا ہے اور اس میں پاکستان کے ساتھ وفاداری کی قسم کھانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی دہرانا پڑتا ہے کہ میں اسلامی نظریہ برقرار رکھنے کے لیے کوشاں رہوں گا جو قیامِ پاکستان کی بنیاد ہے۔ اور حلف کی آخری لائن ہے کہ اللہ تبارک وتعالی سے دعا ہے کہ وہ میری مدد اور رہنمائی فرمائے۔آمین۔ حلف اٹھائے بغیر کوئی بھی اپنی ذمہ داری باضابطہ طور پر نہیں سنبھال سکتا۔اور حلف اٹھانے والا اپنے عقیدے کے مطابق حلف کے مسودے میں ترمیم کرنے کا بھی مجاز نہیں ہے۔اس کے علاوہ حلفِ صدقِ دل سے اٹھایا جاتا ہے ورنہ حلف اٹھانے والا اپنے منصب کے لیے پہلے سیکنڈ سے ہی نا اہل ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی نئی قومی اسمبلی کے دس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے تیئس نامزد ارکان جب رکنِ اسمبلی کے طور پر بسم اللہ الرحمان الرحیم کہتے ہوئے یہ پڑھتے ہیں کہ میں صدقِ دل سے عہد کرتا ہوں کہ اسلامی نظریہ برقرار رکھنے کی کوشش کروں گا جو قیامِ پاکستان کی بنیاد ہے۔ تو پھر آئین کی اس شق کا کیا جائے جو غیر مسلم پاکستانیوں کو برابر کا شہری تسلیم کرتے ہوئے انہیں اپنا مخصوص عقیدہ رکھنے اور اس پر کاربند رہنے کی ضمانت دیتی ہے۔ گویا آئین کی مختلف شقوں کو دیکھیں تو ایک غیر مسلم پاکستانی صدر اور وزیرِ اعظم کے سوا کسی بھی عہدے پر رہ سکتا ہے لیکن حلف نامے کو دیکھیں تو وہ اس وقت تک کچھ نہیں بن سکتا ہے جب تک وہ بھگوت گیتا ، انجیل یا گرنتھ صاحب وغیرہ پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی حقانیت اور اسلامی نظریے پر پورا یقین نہ رکھتا ہو۔کیا یہ آئینی نقص ہے یا جان بوجھ کر ایسا کیا گیا ہے ؟ |
اسی بارے میں سپیکر کا انتخاب کیسے ہوگا؟13 March, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||