مشرف حملہ سازش، تین کو عمر قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کی سازش کے الزام میں کالعدم جہادی تنظیم حرکت المجاہدین العالمی کے امیر سمیت تین ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے جبکہ تین افراد کو بری کر دیا گیا ہے۔ جج غلام علی سامٹیو نے منگل کی دوپہر سینٹرل جیل میں زیر سماعت اس مقدمہ کا فیصلہ سنایا۔ اس سے قبل محمد عمران اور ان کے دو ساتھیوں محمد حنیف اور محمد اشرف کو اسی مقدمہ میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے دس دس سال قید کی سزا سنائی تھی اور دیگر ملزمان کو بری کردیا تھا۔ ملزموں نے سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی اور عدالت نے مقدمہ کی نئے سرے سے سماعت کا حکم جاری کیا تھا۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر حرکت المجاہدین العالمی کے امیر محمد عمران، نائب امیر محمد حنیف اور محمد اشرف کو عمر قید اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جبکہ رینجرز کے سب انسپیکٹر وسیم اختر، محمد جمیل اور شارق کو کافی ثبوت نہ ہونے کی بنا پر بری کردیا گیا۔ اس سے قبل ملزمان کے وکیل وحید کٹپر نے کہا کہ استغاثہ کا یہ موقف درست نہیں ہے کہ ان کے موکلوں کو اس جگہ دیکھا گیا تھا جہاں سے مشتبہ گاڑی برآمد ہوئی۔
ان کا دعویٰ تھا کہ جس وقت صدر مشرف کا کارواں شاہراہ فیصل سے گزر رہا تھا،اس وقت ان کے موکل عوامی مرکز میں موجود تھے۔ وحید کٹپر کا موقف تھا کہ اقراری بیان ناکافی اور ناقابل قبول ثبوت ہے، استغاثہ کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکی ہے، یہ ایک بے بنیاد مقدمہ ہے۔ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نعمت اللہ رندھاوا کا موقف تھا کہ ملزمان نے اقرار جرم کیا ہے اور ان کی گاڑی اس سازش میں استعمال کی گئی تھی، اور یہ کہ ملزمان کو صدر پرویز مشرف پر حملے اور ملک کو لاقانونیت کی طرف دھکیلنے کی سازش کرنے پر سزائے موت سنائی جائے۔ صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کی مبینہ سازش کا انکشاف اس وقت ہوا تھا جب پولیس نے امریکی سفارتخانے کے باہر خودکش حملہ کی منصوبہ بندی کے الزام میں کچھ لوگوں کو حراست میں لیا تھا۔ پولیس کے مطابق زیر حراست افراد نے دوران تفتیش بتایا کہ انہوں نے صدر مشرف کی ’افغان پالیسی‘ سے اختلاف کر تے ہوئے حرکت المجاہدین العالمی کے نام سے ایک تنظیم بنائی ہوئی ہے۔ پولیس کا دعویٰ تھا کہ ملزموں نے انکشاف کیا تھا کہ چھبیس اپریل سن دو ہزار دو کو جب صدارتی ریفرنڈم کے سلسلے میں صدر مشرف کراچی آئے تھے، تو شاہراہ فیصل پر بارود سے بھری ہوئی ایک گاڑی کھڑی کی گئی تھی۔ لیکن اس کے الیکٹرک سوئچ کے بروقت کام نہ کرنے کی وجہ سے دھماکہ نہیں ہوسکا۔ پولیس کے بقول اسی گاڑی کو ملزمان نے بعد میں امریکی قونصل خانے پر خودکش حملے میں استعمال کیا۔ اس حملے میں چودہ لوگ ہلاک ہوئے تھے، جن میں کو ئی غیر ملکی شامل نہیں تھا۔ سندھ ہائی کورٹ اس سے قبل محمد عمران، امیر محمد حنیف، محمد شارق اور حافظ زبیر کو امریکی قونصل خانے پر حملے کے الزام سے بری کر چکی ہے۔ | اسی بارے میں قتل کی سازش پر دس سال سزا18 October, 2003 | پاکستان ’پانچ بم استعمال کیے گئے‘16 December, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||