قربانی کی کھالوں کی’سیاست‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک میں عام انتخابات سے قبل عید قرباں کی آمد آمد ہے اور جہاں سیاسی جماعتیں الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں وہاں انہوں نے زیادہ سے زیادہ قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے انتظامات بھی کر رکھے ہیں۔ قربانی کی کھالیں سیاسی جماعتوں اور دینی تنظیموں اور اداروں کا اہم ذریعہ آمدن ہیں اس لیے ان میں سے ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اپنی بساط کے مطابق زیادہ سے زیادہ کھالیں جمع کر سکیں۔ اسی بناء پر یہ کھالیں شہری سندھ خصوصاً کراچی کی سیاست میں اکثر تنازعے کا سبب بنتی ہیں اور ان پر سیاسی اور دینی تنظیموں کے کارکنوں کے درمیان چھینا جھپٹی اور مسلح تصادم کی اپنی ایک تاریخ ہے جس میں پچھلے دو عشروں میں کئی لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ محکمہ داخلہ حکومت سندھ کے سیکریٹری غلام محمد محترم کا کہنا ہے کہ اس سال کھالوں کی وصولی پر ممکنہ تشدد کو روکنے کے لیے حکومت نے ایک ضابطۂ اخلاق بنایا ہے جس پر ان کے بقول سیاسی اور دینی تنظیموں اور فلاحی اور مذہبی اداروں کے نمائندوں نے اتفاق کیا ہے۔ ضابطۂ اخلاق کے تحت تمام تنظیموں اور اداروں کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ کھالیں جمع کرنے کے لیے کوئی کیمپ نہیں لگائیں گے اور مقررہ مقامات پر کھالیں وصول کریں گے۔’ کوئی چھینا جھپٹی نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی گھروں میں پرچیاں تقسیم نہیں کرے گا‘۔ سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ کھالیں جمع کرنے کی اجازت صرف ان اداروں اور تنظیموں کو دی گئی ہے جو رجسٹرڈ ہیں اور جنہوں نے متعلقہ ضلع کے ڈی سی او سے اجازت نامہ حاصل کیا ہے تاہم کالعدم جہادی تنظیموں کو کھالیں جمع کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کھالوں کے معاملے پر تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا یہ انتظامی اقدامات کافی ہیں۔ ایدھی ویلفئر ٹرسٹ کے اہلکار فیصل ایدھی اس بات سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’ہم تو ضابطۂ اخلاق کی پوری طرح پابندی کرتے ہیں لیکن کھالیں پھر بھی چھین لی جاتی ہیں اور یہ ہر سال ہوتا ہے، حکومت اسے کنٹرول کرنے میں ناکام رہتی ہے حالانکہ وہ چاہے تو بہت کچھ کر سکتی ہے لیکن کچھ نہیں کرتی‘۔
انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے محلے کے اندر بعض افراد نے آ کر لوگوں کو بتانا شروع کر دیا ہے کہ وہ کھالیں کس کو دیں۔’ کچھ دینی اور سیاسی جماعتیں ہیں جو ایسا کرتی ہیں اور سب کو پتہ ہے کہ کون کون سی جماعتیں ہیں لیکن اس کا الزام ہم کسی ایک گروپ پر نہیں لگاسکتے۔ یہاں پر اب ہر گروپ ایسا ہوگیا ہے‘۔ اس حوالے سے غلام محمد محترم کا کہنا ہے کہ پچھلے سال بھی انہوں نے اس معاملے پر تمام فریقین کو بٹھا کر ضابطۂ اخلاق پر اتفاق رائے کرایا تھا اور وہ تجربہ کامیاب رہا تھا کیونکہ کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا تھا۔ ’ کھالیں چھیننے کا ایک آدھ واقعہ ہو جاتا ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ اس (کھالیں جمع کرنے کے عمل) میں جرائم پیشہ افراد بھی شامل ہوجاتے ہیں کیونکہ کھال کی اچھی قیمت ملتی ہے تو جس طرح باقی چیزیں لوٹتے ہیں اسی طرح کھال بھی لوٹ لی جاتی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں کھالوں کی نقل و حمل زیادہ ہوتی ہے وہاں پولیس تعینات کی جاتی ہے اس سے صورتحال کنٹرول میں رہتی ہے ۔’ہمارا اپنا اندازہ ہے کہ اس بار بھی فریقین ضابطۂ اخلاق کی پاسداری کریں گے اور کوئی بڑی گڑبڑ نہیں ہوگی‘۔ حکومت سندھ کے ضابطۂ اخلاق کے تحت قربانی کی کھالوں کے حصول کے لئے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے اور بینرز اور پوسٹرز لگانے پر پابندی عائد ہے تاہم شہر میں کئی علاقوں میں جماعت اسلامی کی الخدمت ٹرسٹ کے علاوہ مختلف تنظیموں نے بینرز آویزاں کر دیے ہیں جن میں لوگوں کو کھالوں کا عطیہ دینے کی اپیل کی گئی ہے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے اس سلسلے میں اخبارات میں اشتہارات دیے گئے ہیں۔ فیصل ایدھی کہتے ہیں کہ قربانی کے عمل کو شہر سے باہر مخصوص مذبحہ خانوں تک محدود کرکے کھالوں کے تنازعے کو حل کیا جاسکتا ہے۔’سعودی عرب میں بھی جہاں سے یہ رسم آئی ہے، آپ جانور شہر کے اندر لا کر نہیں کاٹ سکتے اس کے لیے انہوں نے شہر سے باہر مخصوص علاقوں میں مذبحہ خانے بنائے ہوئے ہیں جہاں قربانی کی جاتی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر قربانی کے لیے مقامات مخصوص ہوں تو وہاں حفاظتی انتظامات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے اور اس سے جانوروں کی آلائش سے پھیلنے والی گندگی کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||