بیت اللہ کی دھمکی پر غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے نگراں وزیرِ اعلیٰ شمس الملک نے کہا ہے کہ اُنہوں نے صوبائی کابینہ کے ارکان کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی غیرجانبداری کو برقرار رکھتے ہوئے آئندہ عام انتخابات میں سرکاری وسائل کے استعمال سے اجتناب کریں ۔ ہفتہ کی شام فرنٹیئر ہاؤس پشاور میں بعض صوبائی وزراء کے سرکاری وسائل کو اپنے اور اپنے امیدواروں کے حق میں مبینہ طور پر استعمال کرنے کے بارے میں سوالوں کے جواب میں نگراں وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے وزراء کو خط بھیجا ہے کہ وہ غیر جانبدار رہیں۔ صوبہ سرحد کے نگراں وزیرِ اوقاف خالد رضا زکوڑی قومی اسمبلی کی ضلع لکی مروت کی نشست این اے ستائیس سے جمیعت علماءِ اسلام کے ٹکٹ پر امیدوار ہیں۔ خالد رضا زکوڑی نے ، جو کہ نگراں صوبائی کابینہ میں شمولیت کے بعد تک پاکستان مسلم لیگ (قائدِ اعظم ) کے رہنما تھے ، چند روز پہلے مسلم لیگ کا لکی مروت کے حلقے کے لیے ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے جمیعت علماء اسلام (فضل) میں شمولیت اختیار کر لی ۔ صوبہ سرحد کے بعض علاقوں میں امن و عامہ کی خراب صورتِحال اور اس کے آئندہ عام انتخابات پر متوقع منفی اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نےانتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانےکے لیے مربوط حکمتِ عملی مرتب کی ہوئی ہے جس کے تناظر میں فی الحال حکومت کا صوبہ کے کسی بھی علاقے میں انتخابات کو مؤخر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ۔ ’ البتہ اگر انتخابات والے دن کسی علاقے میں حالات کشیدہ ہونے کی بناء پر انتخابات مؤخر کرنے پڑے تو اس بارے میں اس وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا۔‘ اُنہوں نے کہا کہ نگراں صوبائی حکومت نے حساس، نیم حساس اور انتہائی حساس علاقوں کا تعین کیا ہوا ہے اور اس درجہ بندی کے حوالے سے انتخابات کو ممکن بنانے اور پولنگ والے دن امن برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کا تعین بھی کرلیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ نگراں صوبائی حکومت بیت اللہ محسود ( جنوبی وزیرستان کے طالبان رہنما) کی انتخابات کے حوالے سے دی گئی دھمکی کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے ۔ صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات اور ملاکنڈ کے علاقے کے دیگر اضلاع میں امن کی پائیدار بنیادوں پر بحالی کے حوالے سے اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے فیصلے اور متاثرہ علاقوں کے عوام کےمطالبے کو مانتے ہوئے نظامِ عدل ریگولیشن میں مجوزہ ترامیم پر مشتمل قانون کا پہلا مسودہ تیار کرلیا ہے جس پر متعلقہ لوگوں اور بحالی امن کے لیے بنائےگئے جرگہ کے ساتھ مل کر غور کرنے کے بعد اُسے نافذ کردیا جائے گا ۔ | اسی بارے میں طالبان کی مشترکہ تنظیم کا قیام14 December, 2007 | پاکستان وزیرستان: جرگہ تنازعےکا شکار08 December, 2007 | پاکستان شورش زدہ علاقے، انتخابی امیدوار07 December, 2007 | پاکستان محسود کے بھتیجےکو24 سال قید30 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||