منگورہ: رقاصاؤں کو طالبان کا خوف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکتوبر کی سرد رات کو منگورہ شہر کی تنگ گلیوں کے ایک گھر کے دروازے پر رات گئے ایک شخص نے دستک دی۔ گھر سے کوئی جواب نہ ملا۔ گھر کے دروازے پر نوٹس لگا تھا جس پر لکھا تھا آج آٹھ اکتوبر سے ناچ گانا بند ہے۔ ایک متجسس ہمسایہ آیا اور بتایا کہ اس گھر کی لڑکیوں کو طالبان نے خطوط بھیجے ہیں جس میں ان لڑکیوں کو مطلع کیا گیا ہے کہ اپنا کاروبار بند کر دو ورنہ ان کا گھر اڑا دیا جائے گا۔ بنڑ روڈ، منگورہ کی موسیقی والی روڈ، کے رہائشیوں نے ان خطوط کی تصدیق کی۔ منگورہ کی ایک رقاصہ نسرین کے سسر فضل مولا نے کہا کہ درجنوں خاندان دوسری شہروں میں منتقل ہو گئے ہیں اور کچھ یہاں پھنس گئے ہیں اور ان کی معاش کا کوئی اور ذریعہ بھی نہیں ہے۔ مقامی طالبان سنہ دو ہزار پانچ سے سوات میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں اور منگورہ کے شمال میں بڑے علاقوں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ پچھلے اگست میں مقامی طالبان نے بنڑ روڈ کے اطراف میں درجنوں خطوط بانٹے تھے جن میں ناچ گانے کے پیشے کو چھوڑنے کا کہا تھا اور دھمکی دی کہ ایسا نہ کرنے پر بموں سے حملے کیے جائیں گے۔ سوات گوری رنگت کی لڑکیوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور ان کو لوگ شمالی پاکستان کے علاقوں میں شادی بیاہ اور نجی محفلوں میں ناچ گانے کے لیے بلاتے ہیں۔ لاہور کے شاہی محلہ کے برخلاف اس قدامت پسند شہر کی لڑکیوں کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ جسم فروشی نہیں کرتیں۔ کئی لوگ بنڑ روڈ پر ان کے گھر شراب اور ناچ گانے کے لیے جاتے ہیں۔ کئی دہائیوں میں یہاں کی لڑکیاں اچھی گلوکار اور فلمی ہیروئن ثابت ہوئی ہیں۔ لیکن کچھ سالوں سے ان کے حالات بہتر نہیں رہے۔
سابق فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں مولویوں کا اثر و رسوخ بڑھا اور انیس سو اسی کی دہائی میں شادی بیاہ کی تقریبات میں ناچ گانوں میں کمی ہونا شروع ہوئی۔ سنہ دو ہزار دو میں مذہبی اتحاد ایم ایم اے صوبہ سرحد میں حکومت میں آئی اور عورتوں کے ناچ گانوں پر پابندی عائد کردی۔ اس عرصے میں بہت سی رقاصائیں بے روزگار ہو گئیں۔ اٹھتیس سالہ شاہ بانو کا کہنا ہے کہ اُس وقت تک ان کی عمر ناچنے کے لیے زیادہ ہو گئی تھی۔ میری بیٹی کے مداح تھے لیکن ایم ایم اے کی حکومت میں ناچ گانے کے بلاوے کم ہوتے گئے اور پھر گرفتاری کا بھی خوف تھا۔ دو برس قبل اس کے شوہر بابو کا انتقال ہو گیا۔ بابو منگورہ کا بہترین ڈرم بجانے والا تھا۔ اس کی موت کے بعد اس کا بیٹا جو کہ ناچ گانے کا سخت مخالف تھا اس نے اپنی بہن کو ناچنے گانے سے منع کر دیا۔ شاہ بانو کے بیٹے شوکت علی نے کہا کہ وہ مچامی قصائی کی دکان پر کام کرتا ہے۔ اگرچہ تنخواہ اتنی زیادہ نہیں لیکن وہ خوش ہے کہ اس کی بہن نہیں ناچتی۔ پشاور میں کئی رقاصائیں بے روزگار ہو گئی تھیں لیکن سی ڈی کی مانگ کی وجہ سے ان کی روزگار میں دوبارہ اضافہ ہوا۔ لیکن طالبان کی اس کاروبار کی شدید مخالفت نے دوبارہ ان لڑکیوں کی روزگار کم کر دی۔ طالبان نے صوبہ سرحد میں سینکڑوں سی ڈی کی دکانیں بموں سے اڑا دیں ہیں۔ دو بچوں کی ماں چھبیس سالہ نسرین نے کہا کہ چار سال قبل کچھ مولویوں نے اس کو اسٹیج پر ناچتے دیکھا اور اس پر پابندی لگا دی۔ ان کے گھر میں کافی مشکلات تھیں کیونکہ ان کے شاہر اور سسر کو موسیقی کے آلات بجانے کے علاوہ کوئی اور ہنر نہیں آتا تھا۔ پھر دو ہزار چھ میں ان کو موسیقی کی سی ڈی میں کام کرنے کے درجنوں مواقع ملے جس سے ان کے گھر کا چولھا جلا۔ انہوں نے آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے مہمانوں کو گھر بھی بلانا شروع کیا۔ لیکن اگست میں طالبان نے منگورہ میں ناچ گانے پر پابندی عائد کردی۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کا دل ناچنے کو نہیں چاہتا۔ لیکن اٹھارہ سالہ پلوشا کا کہنا ہے کہ ہمارے حالات بہتر ہونگے اور ان کی امید تھی کہ وہ یہ دن دیکھنے کے لیے زندہ رہیں گے۔ نسرین کے برخلاف پلوشا نے تقریباً بیس سی ڈی بنوائی ہیں۔اس نے پاکستان ٹیلی وژن کے علاوہ پشتو کے نجی ٹی وی چینل اے وی ٹی خیبر پر بھی گلوکاری اور رقص کیا ہوا ہے۔ اس کا ارادہ ہے کہ وہ لاہور جائے اور فلموں میں کام کرے۔ اس نے کہا کہ اس کی امید ہے کہ وہ یہاں سے نکل جائے اس سے پہلے کہ مقامی طالبان اس کو اُڑا دے۔ | اسی بارے میں بارہ سوسکول بند، تقریباً دو لاکھ طلباء متاثر25 November, 2007 | پاکستان سوات: مزید پچاس ہلاکتوں کا دعویٰ28 November, 2007 | پاکستان فضل اللہ کے ہیڈکواٹر پر فوج کا کنٹرول06 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||