BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 November, 2007, 12:48 GMT 17:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی پی پی: مظاہرے کی کوشش ناکام

پی پی پی کارکن
پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے دو سو سے زیادہ افراد کو کراچی میں گرفتار کیا گیا ہے
کراچی میں پولیس نے اتوار کو پیپلزپارٹی کےرہنماؤں اور درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرکے انہیں کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرہ نہیں کرنے دیا اور کراچی پریس کلب کی جانب جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا۔

گرفتار ہونے والوں میں پپلز پارٹی کے رہنماء میاں رضا ربانی، پی پی سندھ کے صدر قائم علی شاہ، نواب یوسف تالپور، نسرین چانڈیو، وقار مہدی اور دیگر شامل ہیں جنہیں مختلف تھانوں کے لاک اپ میں رکھا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے دو سو سے زیادہ افراد کو کراچی میں گرفتار کیا گیا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے کراچی پریس کلب کے سامنے اتوار کی سہ پہر کو بینظیر بھٹو کی نظر بندی اور ملک کے مختلف حصوں سے پارٹی کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کراچی پریس کلب کے اطراف دوپہر ہی سے تعینات کردی گئی تھی تاکہ مظاہرین کو پریس کلب آنے سے روکا جاسکے۔ واضح رہے کہ صوبہ بھر میں محکمہ داخلہ نے دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت جلسے، جلوسوں اور مظاہروں پر پابندی عائد کررکھی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پریس کلب کی جانب جانے والے راستوں کو مکمل طور پر سیل کردیا تھا جس سے پریس کلب کے اطراف کرفیو کا سماں لگ رہا تھا۔ پولیس رکاوٹیں عبور کرنے کی کسی کو اجازت نہیں تھی اور جو صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے وہاں پہنچتے تو پولیس اہلکار پہلے ان سے شناخت معلوم کرتے اور ان کی جامہ تلاشی کے بعد ان کو جانے کی اجازت دی جاتی۔

پیپلزپارٹی کے کارکنان پولیس رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کرکے جیسے ہی پریس کلب پہنچنے کی کوشش کرتے ان کو پولیس گرفتار کرلیتی۔ کئی کارکنان ٹولیوں کی شکل میں نعرے بازی کرتے ہوئے آئے جنہیں پولیس نے اپنی موبائل وینوں میں ڈال کر لاک اپ منتقل کردیا۔ گرفتار ہونے والوں میں درجن بھر سے زیادہ خواتین ارکان بھی شامل ہیں۔

پیپلزپارٹی کے رہنماء میاں رضا ربانی، پی پی سندھ کے صدر قائم علی شاہ، نواب یوسف تالپور، نسرین چانڈیو، وقار مہدی اور دیگر کو پریس کلب سے ایک کلومیٹر دور ریگل چوک پر اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ نعرے بازی کرتے ہوئے مظاہرہ کرنے پریس کلب کی جانب گامزن تھے۔

اسی بارے میں
نواز شریف کی بینظیر کو پیشکش
10 November, 2007 | پاکستان
بینظیر بھٹو لاہور پہنچ گئیں
11 November, 2007 | پاکستان
سندھ میں ہڑتال، یومِ سیاہ
11 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد