BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فیصل آباد:’اب درخت اُگنامشکل‘

فیصل آباد
فیصل آباد خانیوال روڈ کی تعمیر کے دوران دو ہزار درختوں کے کٹنے کا خطرہ ہے۔اس سلسلے میں اگلے ماہ کھلی کچہری میں فیصلہ ہوگا
پروفیسر گروچن سنگھ کو اس بار اپنی مادر علمی پہنچنے پر ایک بڑا دھچکہ لگا۔ وہ پرانے درخت جن کے سائے تلے بیٹھ کر وہ کتابیں پڑھا کرتے تھے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مشغول رہتے تھے اب نہیں رہے تھے۔

گروچن سنگھ جو لدھیانہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ہیں پاکستان آتے جاتے رہتے ہیں۔ تاہم چند ماہ قبل جب وہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد آئے تو ان کی نظریں ان درختوں کو ڈھونڈتی رہیں جو ان کے رازداں تھے اور ان حسین یادوں کی امین، مگر انہیں کاٹا جا چکا تھا۔ اپنے اس رنج کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے بھی کیا۔

درختوں کا مستقبل
 فیصل آباد وہ واحد شہر ہے جس کا زیر زمین پانی کھارا ہے اور فیکٹریوں کا زہریلا فضلہ اس میں شامل ہونے کی وجہ سے بہت سی جگہوں پر پودے نہیں لگائے جا سکتے۔ اب صرف چند مخصوص علاقے بچے ہیں جہاں زیر زمین پانی ٹھیک ہے اور وہاں شجرکاری ہو سکتی ہے۔
ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر سید محمد اکمل

زرعی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے بتایا کہ ان درختوں کو کاٹنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ انتظامیہ یونیورسٹی کی سڑکوں کو بڑا کرنا چاہتی تھی۔ سڑکیں تو بڑی ہو گئیں مگر پچاس سے زائد پرانے درختوں کی قیمت پر۔

ایک سائنس ٹیچر معراج دین نے جو کہ شیخوپورہ کے رہائشی ہیں کہا کہ آج کی نسل کو پودوں، درختوں سے محبت ہو نہ ہو لیکن پچھلے زمانے کے لوگ ان کو انسانوں کی طرح پیار کرتے تھے۔ ’شیخوپورہ میں قلعہ کے ساتھ والی سڑک کے کنارے جہاں میرا گھر تھا پیپل کا ایک بڑا درخت ہے۔ جب حکام نے سڑک بڑی کرنے کی غرض سے اس درخت کو کاٹنا چاہا تو ہمارے ایک پینسٹھ سالہ محلہ دار عظیم اس درخت سے لپٹ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس درخت کے ساتھ ساتھ بڑے ہوئے ہیں۔ بچپن میں اس درخت کے نیچے کھیلا کرتے تھے اور جوانی میں اپنی محبوبہ کو وہیں بیٹھ کر خط لکھتے تھے‘۔ حکام کو بالآخر ان کی ضد کے آگے جھکنا پڑا۔

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد
ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر سید محمد اکمل کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین چار سال کے دوران شہر کی مختلف سڑکوں، بشمول کچہری روڈ، ڈی گراؤنڈ کو بڑا کرنے کے لیے دو ہزار سے زائد درختوں کو کاٹا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت شہر کی دو سو بہتر سڑکوں پر تقریباً تیس ہزار درخت ہیں۔ نئے پودے لگانے کے حوالے سے سید اکمل نے بتایا کہ فیصل آباد وہ واحد شہر ہے جس کا زیر زمین پانی کھارا ہے اور فیکٹریوں کا زہریلا فضلہ اس میں شامل ہونے کی وجہ سے بہت سی جگہوں پر پودے نہیں لگائے جا سکتے۔ ’اب صرف چند مخصوص علاقے بچے ہیں جہاں زیر زمین پانی ٹھیک ہے اور وہاں شجرکاری ہو سکتی ہے‘۔

گورنمنٹ کالج لاہور جو اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے نام سے جانا جاتا ہے کے شعبۂ باٹنی اور ماحولیات کے سربراہ ڈاکٹر امین الحق کا کہنا ہے کہ سیوریج کا پانی شجرکاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اگر صنعتی فضلہ اس میں شامل نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کھارے پانی میں سوڈیم اور دیگر نمکیات کی مقدار دیکھ کر کوئی نہ کوئی حل نکالا جا سکتا ہے۔ ’درخت لگانے کا جذبہ ہونا چاہیے باقی سب چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں‘۔

ڈسٹرکٹ آفیسر محکمۂ ماحولیات فیصل آباد جاوید اقبال نے بتایا کہ محکمہ کی کوشش ہوتی ہے کہ جب بھی کوئی نئی سڑک بنے یا پرانی روڈ بڑی کی جائے تو کم سے کم درخت کاٹے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد خانیوال روڈ کی تعمیر کے دوران دو ہزار درختوں کے کٹنے کا خطرہ ہے۔ تاہم اس سلسلے میں کھلی کچہری میں فیصلہ ہوگا جو اگلے ماہ لگائی جائے گی۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ چونکہ فیصل آباد میں کھارے اور آلودہ پانی کا مسئلہ زیادہ ہے اس لیے درختوں کے کاٹے جانے یا نئے درخت لگانے پر کوئی دھیان نہیں دیتا۔

انجنئیرنگ ڈیپارٹمنٹ فیصل آباد کے راشد مجید نے بتایا کہ جب بھی کوئی نئی رہائشی کالونی بنائی جاتی ہے تو قانون کے مطابق کم سے کم پانچ فیصد رقبہ درختوں اور پارکوں کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔

کھلی کچہری
 فیصل آباد خانیوال روڈ کی تعمیر کے دوران دو ہزار درختوں کے کٹنے کا خطرہ ہے۔ تاہم اس سلسلے میں کھلی کچہری میں فیصلہ ہوگا جو اگلے ماہ لگائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ فیصل آباد ڈویلیپمنٹ اتھارٹی کے زیر اہتمام سکیموں میں اس پر عمل ہو رہا ہے۔ تاہم ایک انگریزی اخبار کے نمائندہ محمد سلیم کا کہنا ہے کہ گنتی کی چند ہی ہاؤسنگ سکیمیں ایسی ہیں جن میں اس قانون کو مکمل طور پر نافذ کیا گیا ہے۔

محکمۂ ماحولیات پنجاب کے ایک سروے کے مطابق لاہور کے بعد فیصل آباد پنجاب کا دوسرا شہر ہے جہاں فضائی آلودگی صوبے میں سب سے زیادہ ہے۔ ماہر ماحولیات اختر اعوان نے کہا کہ پاکستان انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایکٹ 1997 کے مطابق حکومت پابند ہے کہ کم سے کم دو گنا درخت اس جگہ لگائے جس جگہ سے درخت کاٹے جائیں۔

الائیڈ ہسپتال کے ڈاکٹر محمد شاہد کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی بڑھنے سے سانس کی بیماریاں مثلاً دمہ وغیرہ عام ہیں۔ اس کے علاوہ یہ مختلف قسم کی الرجی اور پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بنتے ہیں۔

ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر فیصل آباد اعظم سلیمان نے بتایا کہ شہر میں سڑکوں کی حالت بہت عرصہ سے خراب تھی جس کو بہتر کرنے کے لیے چند ہزار درخت کاٹنا پڑے لیکن ان کی جگہ نئی شجرکاری کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد