فیصل آباد:’اب درخت اُگنامشکل‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پروفیسر گروچن سنگھ کو اس بار اپنی مادر علمی پہنچنے پر ایک بڑا دھچکہ لگا۔ وہ پرانے درخت جن کے سائے تلے بیٹھ کر وہ کتابیں پڑھا کرتے تھے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مشغول رہتے تھے اب نہیں رہے تھے۔ گروچن سنگھ جو لدھیانہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ہیں پاکستان آتے جاتے رہتے ہیں۔ تاہم چند ماہ قبل جب وہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد آئے تو ان کی نظریں ان درختوں کو ڈھونڈتی رہیں جو ان کے رازداں تھے اور ان حسین یادوں کی امین، مگر انہیں کاٹا جا چکا تھا۔ اپنے اس رنج کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے بھی کیا۔
زرعی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے بتایا کہ ان درختوں کو کاٹنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ انتظامیہ یونیورسٹی کی سڑکوں کو بڑا کرنا چاہتی تھی۔ سڑکیں تو بڑی ہو گئیں مگر پچاس سے زائد پرانے درختوں کی قیمت پر۔ ایک سائنس ٹیچر معراج دین نے جو کہ شیخوپورہ کے رہائشی ہیں کہا کہ آج کی نسل کو پودوں، درختوں سے محبت ہو نہ ہو لیکن پچھلے زمانے کے لوگ ان کو انسانوں کی طرح پیار کرتے تھے۔ ’شیخوپورہ میں قلعہ کے ساتھ والی سڑک کے کنارے جہاں میرا گھر تھا پیپل کا ایک بڑا درخت ہے۔ جب حکام نے سڑک بڑی کرنے کی غرض سے اس درخت کو کاٹنا چاہا تو ہمارے ایک پینسٹھ سالہ محلہ دار عظیم اس درخت سے لپٹ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس درخت کے ساتھ ساتھ بڑے ہوئے ہیں۔ بچپن میں اس درخت کے نیچے کھیلا کرتے تھے اور جوانی میں اپنی محبوبہ کو وہیں بیٹھ کر خط لکھتے تھے‘۔ حکام کو بالآخر ان کی ضد کے آگے جھکنا پڑا۔
گورنمنٹ کالج لاہور جو اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے نام سے جانا جاتا ہے کے شعبۂ باٹنی اور ماحولیات کے سربراہ ڈاکٹر امین الحق کا کہنا ہے کہ سیوریج کا پانی شجرکاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اگر صنعتی فضلہ اس میں شامل نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کھارے پانی میں سوڈیم اور دیگر نمکیات کی مقدار دیکھ کر کوئی نہ کوئی حل نکالا جا سکتا ہے۔ ’درخت لگانے کا جذبہ ہونا چاہیے باقی سب چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں‘۔
انجنئیرنگ ڈیپارٹمنٹ فیصل آباد کے راشد مجید نے بتایا کہ جب بھی کوئی نئی رہائشی کالونی بنائی جاتی ہے تو قانون کے مطابق کم سے کم پانچ فیصد رقبہ درختوں اور پارکوں کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔
محکمۂ ماحولیات پنجاب کے ایک سروے کے مطابق لاہور کے بعد فیصل آباد پنجاب کا دوسرا شہر ہے جہاں فضائی آلودگی صوبے میں سب سے زیادہ ہے۔ ماہر ماحولیات اختر اعوان نے کہا کہ پاکستان انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایکٹ 1997 کے مطابق حکومت پابند ہے کہ کم سے کم دو گنا درخت اس جگہ لگائے جس جگہ سے درخت کاٹے جائیں۔ الائیڈ ہسپتال کے ڈاکٹر محمد شاہد کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی بڑھنے سے سانس کی بیماریاں مثلاً دمہ وغیرہ عام ہیں۔ اس کے علاوہ یہ مختلف قسم کی الرجی اور پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بنتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر فیصل آباد اعظم سلیمان نے بتایا کہ شہر میں سڑکوں کی حالت بہت عرصہ سے خراب تھی جس کو بہتر کرنے کے لیے چند ہزار درخت کاٹنا پڑے لیکن ان کی جگہ نئی شجرکاری کی جا رہی ہے۔ | اسی بارے میں کراچی:طرز تعمیر اور ماحول کی تباہی29 June, 2007 | پاکستان کیا فیصل آباد کی پہچان آلودگی؟01 July, 2007 | پاکستان فیصل آباد: بھٹے، کارخانے اورگاڑیاں02 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||