دہشت گردی: بیرونی عناصر ملوث | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں جاری دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں اور ان عناصر کو بعض مقامی لوگوں کا تعاون حاصل ہے۔ امن و امان کے حوالے سے منعقد ہونے والے اجلاس میں چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور، سیکرٹری داخلہ، ڈائریکٹر جنرل لیویز اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو صوبے میں بم دھماکوں اور دیگر قانون شکن کارروائیوں کے خلاف موثر اور نتیجہ خیز کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں انٹیلیجنس نیٹ ورک کو مزید فعال اور متحرک اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین معلومات اور اطلاعات کے تبادلے پر زور دیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی کی کارروائیوں میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں اور ان بیرونی عناصر کو بعض مقامی لوگوں کا تعاون حاصل ہے۔ یاد رہے کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بم دھماکوں اور قومی تنصیبات پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بم دھماکوں کا یہ تازہ سلسلہ اٹھائیس مئی سے شروع ہوا ہے جس میں اب تک دو افراد ہلاک اور ایک درجن کے قریب لوگ زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ریل کی پٹڑی پر حملے علیحدہ ہیں۔ اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر ان میں سے بیشتر دھماکوں کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔ | اسی بارے میں کوئٹہ: منقطع ریل رابطہ بحال31 May, 2007 | پاکستان بلوچستان: دھماکہ خیز مواد برآمد31 May, 2007 | پاکستان ڈیرہ اللہ یار: فائرنگ سے چار ہلاک30 May, 2007 | پاکستان ’بلوچوں کوتقسیم کیاجا رہا ہے‘27 May, 2007 | پاکستان پاکستان پر ایمنسٹی کی سالانہ رپورٹ23 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||