BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 May, 2007, 08:55 GMT 13:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تفتیش کی نگرانی کے لیے کمیٹی

حماد رضا اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ (فائل فوٹو)
نامعلوم مسلح افراد نے پیر کو حماد رضا کو ان کے گھر پر گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا
سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے دو ججوں پر مشتمل پر ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو عدالت کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کے قتل کی پولیس تحقیقات کی نگرانی کرے گی۔

ادھر وزیر اعظم شوکت عزیز نے حماد رضا کے قتل کی جوڈیشل انکوئری کا حکم جاری کیا ہے۔

منگل کو سپریم کورٹ کے چار جج، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس حامد علی مرزا اور جسٹس غلام ربانی حماد رضا کی رہائشگاہ پر گئے۔

حماد رضا کے اہل خانہ نے سپریم کورٹ کے ججوں کو بتایا کہ پولیس صحیح انداز میں تحقیقات نہیں کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے اسلام آباد پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل اور ایس ایس پی سے اب تک ہونے والی تحقیق کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد چیف جسٹس رانا بھگوان داس کو اپنی رپورٹ دی۔

پولیس حکام کی جانب سے تاحالی تحقیقات کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

 سرکاری اہلکار حماد رضا سے جسٹس افتخار محمد چودھری کے پلاٹوں اور ان بیٹے کی ذاتی زندگی سے متعلق معلومات مانگتے رہے جب وہ ان کو کچھ نہ فراہم کر سکے تو انہیں قتل کر دیا گیا۔
اعتزاز احسن

اس سے پہلے سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل کورٹ بینچ نے کہا تھا کہ عدالت ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کی قتل کی تفتیش کی نگرانی کر رہی ہے۔جسٹس خلیل الرحٰمن رمدے کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے فل کورٹ بنچ نے منگل کو جب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت شروع کی تو چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے عدالت کی توجہ حماد رضا کی قتل کے واقعہ کی طرف مبذول کرائی۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ حماد رضا کے قتل نے جسٹس افتخار محمد چودھری کے مقدمے سے منسلک ہر شخص کو جھنجوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کچھ میڈیا رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف کارروائی کے بعد حماد رضا کو دو دفعہ خفیہ اداروں کے اہلکار اٹھا کر لے گئے اور تھرڈ ڈگری تشدد کا نشانہ بنایا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ سرکاری اہلکار حماد رضا سے جسٹس افتخار محمد چودھری کے پلاٹوں اور ان بیٹے کی ذاتی زندگی سے متعلق معلومات مانگتے رہے جب وہ ان کو کچھ نہ فراہم کر سکے تو انہیں قتل کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حماد رضا سپریم کورٹ کے ایک اہم ہلکار تھے جو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے سٹاف افسر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ حماد رضا کا قتل عدلیہ کو زیر کرنے کی ایک کاوش ہے۔

سپریم کورٹ کے فل کورٹ بینچ نے مقتول حماد رضا کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا سپریم کورٹ کے تمام جج صاحبان بھی ان کے خاندان سے تعزیت کے لیے ان کے گھر جا چکے ہیں۔

’ٹارگٹ کلنگ ہے‘
حماد کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے: اہلیہ
اسی بارے میں
ایڈیشنل رجسٹرار کا قتل
14 May, 2007 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد