پانچ رکنی بنچ، سماعت کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ پیر سے غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست پر سماعت شروع کررہا ہے۔ جسٹس جاوید بٹر کی سربراہی میں قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی طرف سے تشکیل دیئے جانے والے اس پانچ رکنی بنچ کے خلاف صدر جنرل پرویز مشرف کے وکلاء کی طرف سے ’لاجر بنچ‘ یا سپریم کورٹ کے تمام ججوں پر مشتمل فل بنچ بنانے کی درخواست دی گئی تھی۔ اس درخواست کو نظر انداز کرتے ہوئے سیریم کورٹ کی طرف سے مقدمات کی سماعت کے لیے جاری کردی فہرست کے مطابق پانچ رکنی بنچ جسٹس افتخار چودھری کی آئینی درخواست پر پیر سے سماعت شروع کررہا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر ہوگئی۔ صدر جنرل مشرف کے وکلاء نے پانچ رکنی بنچ کے خلاف اپنی درخواست میں کہا تھا کہ یہ سپریم کورٹ کے جونیئر ججوں پر مشتمل ہے۔ جسٹس جاوید بٹر کے علاوہ اس پانچ رکنی بنچ میں جسٹس ناصر الملک، جسٹس راجہ فیاض، جسٹس اعجاز احمد اور جسٹس حامد علی مرزا شامل ہیں۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس آئینی درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ ان کو جبری رخصت پر بھینجنے کے حکم کو کالعدم قرار دیا جائے اور ان کو چیف جسٹس کے عہدے پر بحال کیا جائے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس درخواست میں یہ موقف بھی اختیار کیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی سماعت کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کی موجودگی میں قائم مقام چیف جسٹس کی نامزدگی کو غلط قرار دیتے ہوئے انہیں بحال کرنے کا حکم جاری کریں۔ اسی درخواست میں انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کے تین ججوں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگراور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس افتخار حسین چودھری پر بھی اعتراض اٹھائے ہیں۔ | اسی بارے میں فُل بینچ تشکیل دیں: مشرف وکلاء02 May, 2007 | پاکستان صدر کی درخواست نظر انداز04 May, 2007 | پاکستان جسٹس کیس: کب کیا ہوا؟05 May, 2007 | پاکستان ’فل کورٹ بینچ کا مطالبہ بدنیتی ہے‘03 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||