قائد کے مزار پر خواتین اور سکھ کیڈٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کے ایک سو تیسویں یومِ پیدایش پر کاکول کیڈمی کے جن کیڈٹس نے مزار کے گارڈز کے فرائض سنبھالے ہیں ان میں چھ خواتین اور ایک سکھ کیڈٹ شامل ہیں۔ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش ہر سال پچیس دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ ملکی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ قائد اعظم کے مزار پر خاتون کیڈٹس یا کسی سکھ کیڈٹ نے سلامی پیش کی ہو۔ کراچی میں قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کی تعمیر انیس سو ستر میں مکمل ہونے کے بعد پولیس گارڈز مقرر کئےگئے تھے، مگر بعد میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں یہاں افواج پاکستان کے جوان مقرر کئے جانے لگے۔
ہر سال یہاں پاک فوج، بحریہ اور ایئر فورس کے جوان چار چار ماہ کے لیے تعینات کئے جاتے ہیں۔ چار گارڈز مزار کے اندر اور چار باہر تعینات ہوتے ہیں جبکہ دو گھنٹوں کی ایک شفٹ ہوتی ہے۔ سال میں تین موقعوں پر یعنی ملک کی آزادی، یوم دفاع اور قائد اعظم کے یوم پیدائش پر ایک دن کے لیے زیر تربیت کیڈٹس بھی مقرر ہوتے ہیں۔ اس سال بھی گارڈز کی تبدیلی کی تقریب ہوئی جس میں ایئر فورس کے کیڈٹس کی جگہ کاکول اکیڈمی کے کیڈٹس نے گارڈز کے فرائض سنبھالے ، جن میں چھ خواتین اور ایک سکھ کیڈٹ شامل ہیں۔ کندھوں پر رائفل اور ہاتھ میں تلوار اٹھائے ان خواتین گارڈز نے ملک کے بانی کو سلامی پیش کی۔ واضح رہے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ خواتین کو بھی ریگیولر فوج میں شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ کوئی سکھ کیڈٹ بھی پہلی مرتبہ پاک فوج میں شامل ہوا ہے۔ | اسی بارے میں نوادرات منتقل کرنے کی اجازت17 December, 2006 | پاکستان یومِ احتجاج: ’جہاد اور انتقام‘ کا عہد31 October, 2006 | پاکستان آؤ بچوں سیر کرائیں تم کو۔۔۔06 December, 2006 | پاکستان تاریخِ پاکستان، ڈاک ٹکٹوں کے آئینے میں17 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||