دلاور کا اغوا: حکومت کی مذمت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے بدھ کو پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینٹ میں کہا ہے کہ حکومت بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو اغوا کرنے کی مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جو بھی ملوث ہوئے انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ دلاور خان وزیر کو جس انداز میں اسلام آباد سے ’نامعلوم‘ افراد نے اغواء کیا تھا۔ اس بارے میں صحافیوں کی مرکزی تنظیم ’پی ایف یو جے‘ کے جنرل سیکریٹری مظہر عباس نے کہا تھا کہ یہ کارروائی انٹیلی جنس ایجنسیز کی ہے جس کی حکومت نے تردید کی تھی۔ صحافیوں کے اغواء کے واقعات جس میں خفیہ اداروں پر شبہہ ظاہر کیا جائے اس کی حکومت کی جانب سے مذمت کم ہی سننے کو ملتی ہے۔ قبل ازیں سینٹ میں قائد حزب مخالف میاں رضا ربانی نے نکتہ اعتراض کے دوران جب یہ معاملہ اٹھایا اور کہا کہ بی بی سی اور روزنامہ ڈان کے نامہ نگار دلاور خان وزیر پر اسرار طور پر اسلام آباد سے اغواء ہوئے اور تیس گھنٹے کی حراست کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا اور وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے اس معاملے میں بدھ کو ایوان میں بیان دینے کا وعدہ کیا تھا، لہٰذا وہ بیان دیں۔
اس کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے کہا ’اب صحافی واپس آگیا ہے، چھوڑیں اس معاملے کو اب کیا رہ گیا ہے‘، جس پر اسفند یار ولی اور رضا ربانی سمیت حزب مخالف کے بعض اراکین نے احتجاج کیا کہ ایک صحافی کو اغواء کیا گیا اور اس پر تشدد بھی ہوا اور حکومت کہتی ہے کہ بات نہ کریں۔ ان کی بات آگے بڑھاتے ہوئے حکومتی سینیٹر انور بھنڈر نے بھی کہا کہ وزیر اطلاعات نے ایوان کے فلور پر جو وعدہ کیا ہے وہ پورا کریں جس پر چئرمین سینٹ محمد میاں سومرو نے کہا کہ وزیر اطلاعات ایوان میں جواب دیں۔ وزیر اطلاعات محمد علی درانی کچھ دیر بعد جب ایوان میں آئے اور کہا کہ حکومت اس بارے میں تحقیقات کر رہی ہے اور جو بھی ملوث پائے گئے انہیں سزا ملے گی۔ وزراء کے بیانات کے بعد صحافیوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر پردہ ڈال رہی ہے جس کے خلاف انہوں نے پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم صحافیوں کو منانے آئے اور کہا کہ جس نے بھی دلاور خان وزیر کو اغواء کیا، حکومت اس کی مذمت کرتی ہے۔ صحافیوں نے انہیں واقعات بتائے کہ اسلام آباد جو کہ ہائی سیکورٹی زون ہے اس میں پولیس ہیڈ کوارٹر کے سامنے دن دیہاڑے اغواء کرنے والے کوئی جرائم پیشہ لوگ نہیں ہوسکتے۔ وزیر نے کہا کہ وہ اس بارے میں تحقیقات کرائیں گے اور جو بھی ملوث ہوا ان کو سزا دی جائے گی جس پر صحافیوں نے ان سے کہا کہ وہ دلاور خان کے اغواء کی مذمت کا بیان ایوان کے فلور پر دیں تو وہ واک آؤٹ ختم کریں گے۔ بعد میں وزیر نے ایوان میں بیان دیا اور صحافیوں نے واک آؤٹ ختم کیا۔ دریں اثنا حکومت نے قومی اسمبلی سے خواتین کے حقوق کا منظور کردہ بل سینٹ میں بحث کے لیے پیش کیا جس پر بحث شروع ہوگئی۔ |
اسی بارے میں بی بی سی کے دلاور ’رہا‘21 November, 2006 | پاکستان دلاور کی گمشدگی پر اخبارات میں کیا چھپا؟21 November, 2006 | پاکستان حکومت دلاور کو بازیاب کرائے: مشترکہ قرارداد21 November, 2006 | پاکستان ہم کچھ نہیں کہہ سکتے: وزراء21 November, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||