’ٹی وی ایجنسیوں نے بند کرایا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزبِ اختلاف کے اراکین نے دعوٰی کیا ہے کہ سندھ ٹی وی کی نشریات کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے کہنے پر بند کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں سندھ ٹی وی کی نشریات بند کرنے کے حوالے سے ایک توجہ دلاؤ نوٹس پر بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی یوسف تالپور کا کہنا تھا کہ اس علاقائی چینل کی بندش کے پیچھے ایجنسیوں کا ہاتھ ہے اور اس سلسلے میں حکومت بے بس نظر آ رہی ہے۔ ایم ایم اے کے رہنما حافظ حسین احمد نے میجر جنرل شوکت سلطان کو نشریات کی بندش کا ذمہ دار قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے اے آر وائی اور اب سندھ ٹی وی کی نشریات پر پابندی لگائے جانے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ حکومت میڈیا کی آّزادی پر یقین نہیں رکھتی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے نوید قمر کا کہنا تھا کہ سندھ ٹی وی کو ’ڈکٹیشن قبول نہ کرنے پر بند کیا گیا ہے اور اس بندش سے انتہائی غلط سگنل جا رہا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اور علاقائی سطح پر پہلے ہی بہت بےچینی موجود ہے اور اب سندھ ٹی وی جیسے علاقائی چینل کی بندش سے اس بے چینی میں اضافہ ہوگا۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات نے حکومتی موقف بیان کرتے ہوئے بتایا کہ’سندھ ٹی وی کی نشریات کی بندش ایک انتظامی مسئلہ ہے۔ لینڈنگ رائٹس کے معاملے کو وزارتِ داخلہ دیکھ رہی ہے اورہماری کوشش ہے کہ اس چینل کی نشریات ریگولر ہو جائیں‘۔ اپوزیشن میں شامل جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے سندھ ٹی وی کی نشریات کی بندش کے خلاف علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔ قومی اسمبلی کی پریس گیلری بھی سندھ ٹی وی پر پابندی اور سینیئر صحافی ملک اسماعیل کے قاتلوں کو گرفتار نہ کیئے جانے کے خلاف صحافیوں کے احتجاجی واک آؤٹ کی وجہ سے ویران رہی۔ صحافیوں کے واک آؤٹ پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ قانون وصی ظفر کا کہنا تھا کہ ملک اسماعیل کے قاتلوں کی گرفتاری کے معاملے پر بنائی گئی تفتیشی کمیٹی اپنا کام کر رہی ہے اور تحقیقات کے حوالےسے صحافی حضرات کی کمیٹی کو بھی باخبر رکھا جا رہا ہے۔ بعد ازاں وفاقی وزیرِ اطلاعات کی جانب سے نشریات کی بندش کے معاملے پر کارروائی کی یقین دہانی پر صحافیوں نے بائیکاٹ ختم کر دیا۔ | اسی بارے میں سندھ ٹی وی کی نشریات پر پابندی09 November, 2006 | پاکستان ’سندھ ٹی وی‘ پر پابندی کا تیسرادن12 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||