مرتضی بھٹو قتل کیس: دس برس بعد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سیاسی قتل کی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو کے فرزند اور پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ کے سربراہ میر مرتضیُ بھٹو بیس ستمبر انیس سو چھیانوے کو اپنے سات ساتھیوں سمیت پولیس فائرنگ میں ہلاک ہوگئے تھے۔ اس قتل میں اس وقت کی وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری، سابق وزیر اعلیٰ عبداللہ شاہ، ڈی آئی جی شعیب سڈل، ایس ایس پی واجد درانی، اے ایس پی رائے طاہر، اے ایس پی شاہد حیات، پولیس افسر شبیر قائمخانی اور آغا طاہر ملزم قرار دیئے گئے تھے۔ واقعے کی چار مختلف ایف آئی آرز دائر کی گئی تھیں، جبکہ ایک سو دو گواہ تھے جن میں مرتضیُ بھٹو کی اہلیہ غنویٰ بھٹو اور بیٹی فاطمہ بھٹو بھی شامل تھیں۔ دس سالوں میں بتیس گواہوں کے بیانات قلبند ہوچکے ہیں جبکہ وزیر اعلیُ ہاؤس کے دو سپاہیوں سمیت ستر گواہوں کے بیانات باقی ہیں۔
ابتدائی ایف آئی آرز میں آصف زرداری کا نام شامل نہیں تھا مگر بعد میں ایک گواہ اصغر علی کے اس بیان کے بعد ان کا نام شامل کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ اس نے زخمی مرتضیُ بھٹو کوعاشق جتوئی سے یہ بات کرتے ہوئے سنا تھا ’ آصف علی زرداری اور وزیر اعلیٰ عبداللہ شاہ نے پولیس سے یہ کام کروالیا اور وہ جیت گئے ہم ہار گئے۔‘ اس سے قبل اصغر علی نے بیان دیا تھا کہ انہوں نے جب عاشق جتوئی کو آواز دی تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا البتہ اس نے مرتضیُ بھٹو کے کراہنے کی آواز سنی تھی۔ گواہوں میں میڈیکل افسر ڈاکٹر ایاز بھی یہ بیان دے چکے تھے کہ مرتضیُ بھٹو کی ایسی حالت نہیں تھی کہ وہ بات کرسکتے۔ ایک طویل عرصے میں جہاں تین حکومتیں تبدیل ہوچکی ہیں وہاں اس مقدمے کے چار ججز بدل چکے ہیں اور موجود وقت سیشن جج ایسٹ کراچی ظفر علی خان کی عدالت میں یہ مقدمہ زیر سماعت ہے جس کی ستمبر کو اس کی آخری سماعت ہوئی تھی۔
آصف علی زرداری نے موجودہ سیشن جج پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ وہ اپنے بھائی جو قومی احتساب بیورو میں افسر ہیں ان کی ایما پر ان سے زیادتی کر رہے ہیں۔ ان کی اس درخواست کو عدالت نے مسترد کردیا تھا گزشتہ دس برسوں میں مقدمہ کا ایک ملزم ایس ایچ او حق نواز سیال ، انسپیکٹر ذیشان کاظمی اورعلی سونارہ جس کو مرتضیُ بھٹو ڈھونڈنے کے لیئے نکلے تھے ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس ہائی پروفائیل کیس کی جہاں پولیس کی چار ٹیمیں تحقیقات کرچکی ہیں وہاں سپریم کورٹ کے حکم پر تحقیقاتی ٹربیونل بھی قائم کیا گیا تھا۔ اس ٹربیونل کے سربراہ سابق جج جسٹس ناصر اسلم زاہد کا کہنا ہے کہ ان کے مطابق بیرونی ممالک میں اگر کسی جج کے پاس کوئی بڑا مقدمہ ہوتا ہے تو اس کو مزید مقدمات نہیں دیئے جاتے۔ اسی طرح مرتضیُ کیس کے لیئے بھی ایک جج مقرر ہونا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب مرتضیُ جیسے ہائی پروفائیل مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوسکا تو عام آدمی کو کیسے انصاف مل سکتا ہے۔ مقدمے کے فیصلے کے حوالے سے مرتضیُ بھٹو کی بیوہ غنویُ بھٹو کوئی خاص پرامید نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مرتضیُ کیس کبھی حل نہیں ہوسکتا ہے، کیونکہ قتل کے جن مقدمات میں ریاست ملوث ہوتی ہے ان کا فیصلہ کبھی نہیں آتا ہے پھر چاہئے وہ ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمہ ہو لیاقت علی خان کا یا جان ایف کینیڈی کا کیس ہو۔ انہوں نے کہا کہ اکثر لوگ ان سے یہ سوال کرتے ہیں، مگر حکومت سے معلوم کرنا چاہئے کہ آخر اس مقدمہ کا فیصلہ کیوں نہیں ہو سکا۔ مقدمے کی سماعت نہ ہونے کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس کی کافی وجوہات ہیں اس میں کافی ادارے شامل ہیں، اور انٹیلی جنس ادارے بھی ملوث ہیں۔ میر مرتضیُ کے بیٹے ذوالفقار اور بیٹی فاطمہ کے سیاست میں شمولیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک ایسا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ فاطمہ بھٹو کی سیاست میں دلچسپی ہے مگر عملی سیاست میں وہ حصہ لینگی یا نہیں وہ کچھ نہیں کہہ سکتیں۔ | اسی بارے میں ’وہ آیا، چھایا اور قتل ہوگیا‘20 September, 2006 | قلم اور کالم بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||